سردارشیربہادرکے بعد ضلعی صدر نقیب اللہ کا بھی پی ٹی آئی قیادت سے پھڈا۔ 


ایبٹ آباد:سردارشیربہادرکے بعد ضلعی صدر نقیب اللہ کا بھی پی ٹی آئی قیادت سے پھڈا۔ معاملات پشاورہائیکورٹ میں پہنچ گئے۔ پی ٹی آئی ایبٹ آباد کی تنظیم اپنے آئینی حق اور اختیارات کیلئے ہائی کورٹ پہنچ گئی،ضمنی بلدیاتی الیکشن میں پارٹی تنظیم کو بائی پاس کر کے مخصوص نشستوں کی لسٹ کیخلاف ضلعی صدر نقیب اللہ خان جدون کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن سماعت کیلئے منظور۔

ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد میں کسی بھی قسم کے انتخابات کیلئے امیدواروں کے تقرر کا اختیار پی ٹی آئی کے کسی عہدیدار کے پاس نہیں ہے۔ ماضی میں سابق ضلعی صدر سردار شیربہادر نے یونین کونسل کیہال سے بلدیاتی الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹ مانگا تو انہیں ٹکٹ نہیں دیاگیا۔ جس کی وجہ سے سردار شیربہادر آزاد حیثیت سے الیکشن جیتنے کے بعدضلع ناظم منتخب ہوگئے۔ پارٹی عہدیداروں کو بائی پاس کرنے کا سلسلہ رکا نہیں۔ اس ضمن میں ذرائع نے مزید بتایاکہ پاکستان تحریک انصاف میں ٹکٹوں سمیت اہم فیصلوں میں ضلعی اور تحصیل تنظیموں کوبے خبر رکھے جانے کی روش برقرار رکھتے ہوئے 23دسمبرکو ہونے والی مقامی حکومتوں کے ضمنی الیکشن کیلئے بھی پارٹی کے مروجہ طریقہ کارکو بالائے طاق رکھتے ہوئے خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر من پسند نامزدگیوں پر مبنی ایک لسٹ جمع کرا دی گئی۔ جس پر پی ٹی آئی کے ضلعی صدر نے اس اقدام کو پشاورہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بنچ میں چیلنج کردیاہے معزز عداالت نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے کل جمعرات 6دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔

معروف قانون دان حسیب عباسی ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی کئی رٹ پیٹیشن میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ ضمنی انتخابات میں نامزدگیوں کے حوالے سے پارٹی آئین اور مرکزی سیکرٹری جنرل کی ہدایات کی نفی کرتے ہوئے ایک غیر آئینی لسٹ جمع کرائی گئی ہے جسے جمع کرانے والوں کو ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں مذکورہ لسٹ سے ضلعی اور تحصیل تنظیموں کو قطعی لاعلم رکھا گیاہے لہذا اس لسٹ کو منسوخ کیا جائے۔ رٹ پٹیشن میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ پارٹی کے اہم فیصلوں میں پارٹی تنظیموں اور پارٹی کے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو شامل کیا جانا ضروری ہے جبکہ مذکورہ غیر آئینی لسٹ جمع کراتے ہوئے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ارشدداد کی جانب سے جاری نوٹیفیکشنز کو رٹ پٹیشن کا حصہ بنایا گیا جس میں ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری ہور کے ضلعی صدورکو ٹکٹوں کے فیصلے کا اختیار دیا گیاہے۔


Comments

comments