قلندرلودھی، نثارصفدرخان اورسجاداکبر خان ایک ہی حلقے میں آگئے۔


ایبٹ آباد:قلندرلودھی، نثارصفدرخان اورسجاداکبر خان ایک ہی حلقے میں آگئے۔ذرائع کے مطابق نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن میں سابق ایم پی اے نثار صفدر خان نے اپنی آبائی یونین کونسل بانڈی عطائی خان کو حلقہ پی کے اڑتیس کیساتھ منسلک کرنے کی اپیل دائر کررکھی تھی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نثار صفدر خان کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے یوسی بانڈی عطائی خان کو حلقہ پی کے اڑتیس کیساتھ منسلک کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق حلقہ پی کے اڑتیس میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر خوراک قلندرخان لودھی، نثار صفدر خان اور سجاد اکبر خان ایک ہی حلقے میں آگئے ہیں۔ اور تینوں امیدوار ایک دوسرے کے مد مقابل الیکشن میں حصہ لینگے۔

ذرائع کے مطابق نثارصفدر خان جو کہ قومی اسمبلی کے حلقہ پرالیکشن میں حصہ لینے کے لئے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور نثار صفدر خان نے نئی حلقہ بندیوں کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ نثار صفدر کے چچازاد سکندراعظم خان بھی ایک دوسرے کیخلاف الیکشن میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کا جہاں سے سب سے زیادہ سیاسی نقصان صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی کو پہنچاہے۔ وہیں پی ٹی آئی کیساتھ تعلق رکھنے والے سجاد اکبر خان کوبھی یوسی بانڈی عطائی خان کو حلقہ پی کے اڑتیس کیساتھ منسلک کرنے کا فائدہ پہنچاہے۔ سجاد اکبر خان نے جہاں پچھلے آٹھ سالوں سے پرانے حلقہ پی کے چھیالیس میں کام کیاہے۔ وہیں نئی حلقہ بندیوں کے بعد حویلیاں سرکل میں بھی ان کا وسیع سیاسی اثرورسوخ پایا جاتاہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے بعد سجاد اکبرخان اور نثار صفدر خان کی پوزیشنیں بہتر ہوگئی ہیں۔


Comments

comments