ایبٹ آباد شہر میں چڑیل کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ۔


ایبٹ آباد:ایبٹ آباد شہر میں خوفناک چڑیل (بلا) کے گھومنے کی افواہیں عروج پر۔ پولیس اور حساس اداروں نے چڑیل کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ عوام الناس سے ان افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل۔ اس ضمن میں ذرائع نے وائس آف ہزارہ کو بتایاکہ پچھلے چند ہفتوں سے ایبٹ آباد شہر کے مختلف علاقوں میں چڑیل (خوفناک بلا) کے گھومنے کی افواہیں فیس بک کے ذریعے پھیلائی جارہی ہیں۔ فیس بک استعمال کرنیوالے بہت سے لوگوں نے اس افواہ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہالی وڈ کی مختلف ڈراؤنی فلموں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کررکھاہے۔
اس حوالے سے پولیس اور حساس اداروں کے مختلف افسران اور اہلکاروں سے رابطہ کیا گیا۔ جنہوں نے ایبٹ آباد شہر میں چڑیل (بلا) کے گھومنے کی افواہوں کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایبٹ آباد ایک جدید شہر ہے۔ جہاں موبائل صارفین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ایبٹ آباد شہر میں کوئی بھی واقع ہوتاہے تو اس کی ویڈیو کوئی نہ کوئی بنا لیتاہے۔ کیاوجہ ہے کہ چڑیل کی افواہیں تو خوب پھیلائی جارہی ہیں لیکن ان افواہوں کیساتھ ہالی وڈ کی ڈراؤنی فلموں کی تصاویر استعمال کی جارہی ہیں؟ کیا کسی بھی جگہ کوئی شخص اس بلا کی ویڈیو کیوں نہیں بناسکا؟ جس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ایبٹ آباد شہر میں نہ تو کوئی چڑیل گھوم رہی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی وجود ہے۔ افسران کے مطابق بالفرض اگر واقعی چڑیل گھوم رہی ہے تو وہ کہاں پر رہتی ہے؟ دن کے وقت کہاں ہوتی ہے؟ اور ایبٹ آباد شہر کے اندر ایسی کون سی جگہ ہے جہاں پر چڑیل چھپ سکتی ہے؟ آج کے جدید سائنسی دور میں بھی لوگوں کو ضعیف العتقادی کی جانب مائل کیا جارہاہے۔ جو کہ افسوسناک بات ہے۔ کسی جنگل یا ویران علاقے کے بارے میں آج تک کسی چڑیل کے بارے میں کچھ سامنے نہیں آیا۔ کہ وہاں پر کوئی چڑیل وغیرہ موجود ہے۔ لیکن روشنیوں کے شہر میں چڑیل کے قصے بڑھا چڑھا کر بیان کئے جارہے ہیں۔

پولیس کے مطابق چند شرپسند لڑکے چڑیل والے ماسک پہن کر لوگوں کو مختلف علاقوں میں ڈرا رہے ہیں۔ اور یہ اطلاعات مختلف علاقوں سے موصول ہوئی ہیں۔ جیوفینسنگ کی مدد سے ان لڑکوں کو بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ اور اس سلسلے میں سپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔


Comments

comments