ایبٹ آباد میں جھوٹے وعدے کرنے والے سیاست دان مکافات عمل کا شکار ۔


ایبٹ آباد شہرسے محض سات کلومیٹر دوری پر واقع گاؤں ’’بوئے دی گلی‘‘کے مکینوں نے 1985سے اب مسلسل وعدوں پر ٹرخانے والے سیاسی لیڈروں اور انتخابی امیدواروں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔بوئے دی گلی یونین کونسل جھنگی کا نسبتاً ایک خوشحال گاؤں ہے جہاں کے زیادہ تر مکین بسلسلہ روزگار دنیاکے مختلف ممالک میں پردیس کاٹ رہے ہیں۔اس گاؤں کو ایبٹ آباد شہر سے ملانے والی واحد سڑک 1985میں پختہ کی گئی۔جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر متعدد مقامات پر ناقابل استعمال ہوچکی ہے۔سابق وفاقی وزیر امان اللہ خان کے دورمیں علاقے کو گیس فراہمی کا اعلان کیا گیا لیکن بعدازاں پائپ اٹھالئے گئے،اس کے بعد آنے والے سیاسی ادوار میں یہاں کے مکینوں کو مسلسل بہلاوے دیئے گئے۔جبکہ سابق صوبائی وزیر خوراک قلندرلودھی نے علاقے کو پانی فراہم کرنے کا اعلان کیا تو وہ بھی پورا نہ ہوپایا۔منتخب نمائندوں اور سیاسی امیدواروں کے مسلسل جھوٹے وعدوں کی وجہ سے اس علاقے کے لوگوں نے آئندہ انتخابات میں کسی جماعت اور کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کااعلان کردیا اور تمام امیدواروں کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا۔عابدملک علاقے کی ایک معروف اور متحرک سماجی شخصیت ہیں۔ان کہنا ہے کہ ہم نے مسلم لیگ ن،پی ٹی آئی سمیت ہر جماعت کو آزما کردیکھ لیا ہے اور اب ہمیں اندازہ ہورہا ہے کہ یہ لوگ صرف اور صرف ہمیں اپنے مطلب کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں،ہمارے تین مطالبات تھے،سڑک کی پختگی،پانی اور گیس کی فراہمی لیکن مہتاب عباسی،قلندرلودھی سمیت ہر منتخب نمائندے نے ہمارے ساتھ مذاق کیا۔انہوں نے کہا ہماری بستی سے صرف چار کلومیٹر دوری سے گیس پائپ لائن گزار کر تناول کو پہنچائی گئی،لیکن ہمارے ساتھ ہر بار مذاق کیا گیا۔کبھی ہمیں اس دفتر اور کبھی اس دفتر دوڑایاجاتا رہا،اب آخر میں جاکر بہانہ یہ بنایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ترقیاتی منصوبوں پر پابندی لگادی ہے۔اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ وہ لوگ ہمیں ایک بار پھر ووٹ کیلئے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں،لیکن ہم تمام اہل علاقہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ یا تو ان منصوبوں کے حوالے سے ہمیں ٹھوس شواہد دیں یا پھر ووٹ مانگنے کی زحمت نہ کریں۔ملک عابد کے بقول گریوٹی فلو سکیم کے تحت علاقے میں جاپان کے تعاون سے پانی کی لائنیں بچھائی گئیں،لیکن دس سال گزرنے کے باوجود آج تک ان میں پانی نہیں چھوڑا گیا،کبھی یہ بہانہ اور کبھی وہ حیلہ۔ہم نے قلندرلودھی سمیت ہر در کھٹکھٹا یا،حتی کے ہمیں تحصیل ناظم نے دس دن میں پانی فراہم کرنے کاوعدہ کیا لیکن یہ وعدہ بھی وعدہ ہی رہا۔ ظہور احمد عباسی کہتے ہیں،ہم ہر بار کبھی مہتاب عباسی اور کبھی قلندرلودھی کے وعدوں پر اعتبا ر کرکے انہیں ووٹ دیتے رہے،لیکن انہوں نے ہر بار ہمیں اپنے بچوں کے سامنے جھوٹا ثابت کیا۔کیوں کہ نئی نسل اب ہم سے بھی ووٹ کا حساب مانگتی ہے اور وہ پوچھتے ہیں کہ ہم نے جن لوگوں کو ووٹ دیئے تھے اس کے بدلے اپنے علاقے کے ہم نے کیا حاصل کیا۔

محمد فاروق کے بقول اس علاقے کے زیادہ تر مکین بیرون ملک پردیس کاٹ رہے ہیں اور ہر سال بھاری زرمبادلہ اپنے ملک بھیجتے ہیں،لیکن ہمارے ادارے جو ہمارے ہی ٹیکسوں سے تنخواہیں پاتے ہیں اور ہمارے نمائندے جو ہمارے ووٹ سے منتخب ہوکر اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں،عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔خاص طورپر سیاسی لوگوں کی دوستی یا مفاد صرف اورصرف ووٹ حاصل کرنے تک ہوتا ہے۔جس کے بعد وہ پلٹ کر عوام کی خبرگیری کا تکلف بھی گوارا نہیں کرتے۔ملک جہانزیب کے مطابق مقامی لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اورسیاسی لوگوں کی منتیں کرتے کرتے ہماری ہمت جواب دے چکی ہے۔اگر کسی کو ووٹ چاہیے تو پہلے وہ ہمیں تحریر یقین دہانی کروائے۔محمد سلیم کے بقول اگر شہرسے محض چند کلومیٹر کی دوری پر بنیادی انسانی سہولتوں کی صورتحال اس قدر ابتر ہے تو دوردراز علاقوں میں صحت اور انصاف کے دعویداروں نے کیا گل کھلائے ہوں گے۔انہوں نے کہا ہر انتخابات کے موقع پر سیاستدان ہمیں اپنے درشن کرواتے ہیں،ووٹ بٹورتے ہیں اور پھر پانچ سال بعد ہی کہیں ان کا دیدار نصیب ہوتا ہے۔ملک جہانزیب کہتے ہیں،انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ اس لئے کیا کہ اب ہم لوگوں میں جھوٹے وعدے اور جھوٹی تسلیاں سننے کا حوصلہ نہیں رہا۔اب یہی ہے کہ ووٹ نہیں دیں گے تو کم ازکم کسی پر گلہ تو نہیں رہے گا۔


Comments

comments