اہلیان ترنوائی قلندرلودھی اوران کے بھتیجے نعیم لودھی کیخلاف پھٹ پڑے۔


قلندرآباد :ترنوائی تا تریڑھی روڈ پر سفر موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ اب تک یہ روڈ پچاس سے زیادہ انسانی جانیں نگل چکا ہے ۔ ترنوائی سے آگے چھپن گاؤں کے لوگوں کا انحصار اسی روڈ پر ہے جو ان علاقوں کو قلندرآباد اور شاہراہ ریشم سے منسلک کرتا ہے ۔ نعیم لودھی کی جانب سے علاقے میں کیئے جانیوالے ترقیاتی کاموں کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ سولہ ٹرانسفارمر دینے کا جھوٹ بولنے والوں نے ایک ٹرانسفارمر تک نہیں دیا ۔ علاقہ کے لوگ آج بھی پتھر کے دور کی زندگی جینے پر مجبور ہیں ۔ سرکاری سکیموں کے پیسے اڑانے میں نعیم لودھی کا نام سب سے اوپر ہے جس نے صرف تریڑھی پرائمری سکول کے ٹھیکیدار سے تین لاکھ روپے کمیشن وصول کیا ہے جس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں ۔ سکول کی ناقص تعمیر کا بھانڈہ پھوٹ چکا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اہلیان تریڑھی نے میڈیا کی سروے ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ معززین علاقہ جن میں ارشاد عباسی ، شوکت عباسی، احمد نواز، مصطفیٰ عباسی، جہانگیر عباسی، ماسٹر اکرم ، راشد چوہدری ، ارشد عباسی ، عبدالمالک عباسی، قیصر چوہدری، امتیاز عباسی، سیف الرحمان اور دیگر شامل تھے ایم پی اے قلندر لودھی اور نعیم لودھی کے خلاف سراپا احتجاج تھے ۔ علاقہ کے کونسلر خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ علاقے میں قلندر لودھی اور نعیم لودھی نے تمام کام کروائے ہیں اور وہ علاقے کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں لیکن مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ خاقان عباسی اب تک اپنے دو بیٹوں کو کلاس فور بھرتی کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن علاقہ کے عوام بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ۔

صحافیوں کی ٹیم کو اہلیان علاقہ نے دورے کی دعوت دی ہوئی تھی میڈیا کو دیکھ کر اہلیان علاقہ پھٹ پڑے ۔ تباہ حال سڑک کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ ایس ڈی اے کے دور میں کچی پگڈنڈی بنائی گئی تھی جو آج بھی ویسے کی ویسی ہے ۔ علاقے میں سڑکیں بنانے کا دعویٰ جھوٹ ہے ۔ آج تک تریڑھی گاؤں میں قلندرلودھی نے صرف مشرف دور حکومت کے دوران بوائز پرائمری سکول کا ایک کمرہ دیا تھا جس پر دس لاکھ روپے لاگت آئی لیکن زلزلے کے بعد اس سکول کو ایرا نے توڑ دیا اور بعد ازاں ایک کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود ابھی تک سکول کی ڈی پی سی تک نہیں بنائی گئی ۔ صرف سریئے لگا کر پیسے ہضم کر لیئے گئے یا واپس لاڑکانہ اور ملتان منتقل ہوئے ۔ اس کے علاوہ ایک پلی دس لاکھ کی لاگت سے بنائی گئی جس کی مزدوری ابھی تک نوے ہزار روپے مزدوروں کو ڈھائی سال سے نہیں ملے ۔

عمائدین علاقہ کا کہنا تھا کہ نئی تعمیر ہونے والی پرائمری سکول کی عمارت کی رقم کمیشن خوری کی نذر ہو گئی مصطفیٰ عباسی کا کہنا تھا کہ نعیم لودھی نے تین لاکھ روپے ٹھیکیدار سے کمیشن وصول کیا ۔ تعمیرات کے دوران ناقص میٹریل استعمال ہوا ۔

بی ایچ یوترنوائی کا تمام عملہ چھٹیوں پر۔

قلندرآباد میڈیا ٹیم کا ترنوائی بی ایچ یو کا اچانک دورہ ، دو کلاس فور ملازمین کے علاوہ بی ایچ یو میں کوئی موجود نہیں تھا دن بارہ بجے تک ڈاکٹر نہیں آتا ۔ مریض کہاں جائیں ، عوام کا سوال ؟ میڈیا ٹیم نے سرکل قلندرآباد کے بالائی علاقوں کا دورہ کیا اس دوران ترنوائی میں قائم بی ایچ یو میں ڈاکٹر سمیت کل چھ ملازم ہیں جن میں سے حاضری رجسٹرر پر تین کی حاضری لگی ہوئی تھی جن میں سویپر شمریز اور شمیم اختر دائی موجود تھی ۔ اور میاں داد ، شیراز ، محمد جاوید اور ڈاکٹر نوید غیر حاضر تھے ۔ بی ایچ یو کے رجسٹر سے معلوم ہوا کہ یہاں نو جنوری کو آخری بار مریض دیکھا گیا اور گزشتہ تین دن سے کسی مریض کا نام درج نہیں تھا ۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو کمپلیکس جانا پڑتا ہے ۔ داتہ کے رہائشی ڈاکٹر نوید ڈسپنسری میں تعینات ہیں لیکن حاضر کبھی کبھار ہی ہوتے ہیں ۔ سویپر اور دائی کے علاوہ کوئی نہیں آتا ۔ بی ایچ یو کی عمارت کھنڈر بن چکی ہے ٹوٹی پھوٹی ڈسپنسری صرف تین نیم تاریک کمروں پر مشتمل ہے کوئی سٹریچر تک نہیں نہ مریضوں کے بیٹھنے کے کے لئے کوئی کرسی ہے چارپائی اور ایک ٹیبل بی ایچ یو کا کل اثاثہ ہے ۔ شہریوں نے کہا کہ ہسپتال کی عمارت کی تعمیر نو اور سٹاف کی فراہمی کا ہمارا مطالبہ پورا کیا جائے ۔ اس بارے میں جب ڈاکٹر نوید سے موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میری خالہ فوت ہوئی تھیں میں اس لیئے چھٹی پر تھا ۔


Comments

comments