دھمکی دینے والے کی فوری ری کاؤنٹنگ ۔ دیگرامیدواروں کی درخواستیں مسترد ۔


ایبٹ آباد:دھمکی دینے والے کی فوری ری کاؤنٹنگ ۔ دیگرامیدواروں کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ پورے ملک کی طرح ایبٹ آباد میں بھی ملکی تاریخ کے شفاف ترین الیکشن ہوئے۔ ان انتخابات میں بوگس ووٹ تو کوئی پول نہیں کرسکا۔ اور نہ ہی سابق انتخابات کی طرح بدمعاشی کے زور پر بیلٹ باکس بھرے جاسکے۔ کیونکہ ان انتخابات میں فوجی جوان تعینات کئے گئے تھے۔ جنہوں نے بدمعاشوں کو بیلٹ باکس بھرنے سے روکے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات میں بڑے بڑے سیاسی برج الٹ گئے۔

لیکن جن امیدواروں کے پاس پیسہ اور عقل تھی۔ ان امیدواروں نے ڈیوٹی کرنیوالے عملے کو ساتھ ملالیا۔ ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد میں جیتنے والے امیدواروں نے انتخابی عملے کو بھاری رقوم ادا کیں۔ جس کے عوض انتخابی عملے نے نہ صرف ٹوٹلنگ میں ان امیدواروں کے ووٹ زیادہ کئے۔ بلکہ ان کے مخالفین کے ووٹوں کو ہزاروں کی تعداد میں کم بھی کیا۔ اس صورتحال پر امیدوار سراپا احتجاج ہیں۔ ایبٹ آباد کے حلقہ این اے پندرہ پر سابق ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی دس ہزار سے زائدمارجن سے الیکشن ہارگئے ۔ اگلے روز مرتضیٰ جاوید عباسی اپنے ہزاروں سپورٹروں کے ہمراہ ریٹرننگ آفیسر کی عدالت میں پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے ری کاؤنٹنگ کا مطالبہ کیا۔ تاہم ریٹرننگ آفیسر نے ری کاؤنٹنگ سے انکار کردیا۔ جس پر مرتضیٰ جاوید عباسی نے انتظامیہ کو دھمکی دی کہ اگر ابھی اور اسی وقت ری کاؤنٹنگ شروع نہ کی گئی تو پھر میرے ساتھ آئے ہوئے تمام سپورٹر جوکچھ کرینگے۔ اس کی ذمہ داری آپ سب لوگوں پر عائد ہوگی۔ اس دھمکی نے کام کردکھایا اور فوری طور پر ری کاؤنٹنگ کا عمل شروع کردیاگیا۔ اس دوران مرتضیٰ جاوید عباسی کیساتھ آئے ہوئے ان کے ہزاروں مشتعل سپورٹر شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ کے ووٹوں کی گنتی پر کم از کم ایک ہفتے سے زائد وقت لگتاہے۔ جس کی مثال مانسہرہ میں سردار یوسف کا حلقہ ہے ۔ جس کی ری کاؤنٹنگ میں ایک ہفتے کا وقت دیاگیاہے۔ اور مانسہرہ میں بھی شدید ہنگامہ آرائی اورجلاؤ گھیراؤ کے بعد انتظامیہ نے ری کاؤنٹنگ کا عمل شروع کیا۔

HAVELIAN: 25Jul – Local People standing outside a polling station in Sultan Pur area to cast their vote in Jabrian area during General Elections in the Country. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ حلقہ این اے پندرہ کی ری کاؤنٹنگ کا عمل شام تین بجے شروع کیاگیا اور رات گیارہ بجے مرتضیٰ جاوید عباسی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔ ذرائع کے مطابق ری کاؤنٹنگ کے عمل کے دوران چیف الیکشن کے ذمہ داروں نے ریٹرننگ آفیسر کو مرتضیٰ جاوید عباسی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرنے کے بھی احکامات جاری کئے گئے۔

ABBOTTABAD: 25Jul – A Local man casting their vote, during General Elections in the Country. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

جبکہ دوسری جانب حلقہ پی کے 37،38، 39 کے امیدواروں سردار وقار نبی، ارشد اعوان اور عنایت اللہ خان کی ری کاؤنٹنگ کی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں۔ سرداروقار نبی نے الزام لگایاہے کہ انتخابی عملے نے ملی بھگت کرکے ان کے ووٹوں کا فرق دس ہزار سے زائد رکھا ہے۔تاکہ ان کی درخواستیں مسترد کئے جانے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔ جبکہ دوسری جانب حلقہ پی کے 38 کے مسلم لیگی امیدوار ارشد اعوان اور عنایت اللہ خان کا کہناہے کہ ہمارے ووٹوں کا فرق دس ہزار سے بھی کم ہے۔ لیکن ہماری درخواستیں خلاف قانون مسترد کی گئیں۔ ایسا لگتاہے کہ خفیہ ہاتھ ہرجگہ کام کررہے ہیں۔ حلقہ پی کے اڑتیس کے امیدوار ارشد اعوان نے دعویٰ کیاکہ قلندرلودھی نے پندرہ ہزار سے بھی کم ووٹ حاصل کئے ہیں۔ قلندرلودھی یہ الیکشن کسی صورت جیت ہی نہیں سکتے۔ میرا مقابلہ سجاداکبرخان کیساتھ تھا۔ لیکن افسوس کہ شفاف انتخابات کا نعرہ جھوٹ ثابت ہوا۔


Comments

comments