ایبٹ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر افتخارکاکارنامہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان؟


ایبٹ آباد یونیورسٹی کاوائس چانسلرافتخاراحمد سیکیورٹی رسک بن گیا ۔ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ایبٹ آباد میں خطرات سے بچاؤ کیلئے مالاکنڈ میں رہائش اختیار کرنے کا انوکھا فیصلہ ۔خود ساختہ فیصلہ کے اخراجات یونیورسٹی کو برداشت کرنے کا ذاتی حکم نامہ جاری کر دیا ۔جو یونیورسٹی ایکٹ کی صریحاً خلاف ورزی اور لوٹ مار کا نیا طریقہ قرار دیدیا گیا ۔جس سے لاکھوں روپے کا سرکاری فنڈ پار کرنے کی تیاریاں مکمل ، وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی افتخاراحمد روزانہ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کے علاوہ روزانہ 12 گھنٹے سفر میں گزارکرگنیز بک کے عالمی ایوارڈ کے مستحق بن گئے ہیں اور مذکورہ فیصلہ قانون نافذ کرے والے اداروں کیلئے سوالیہ نشان بن گیا؟

ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر افتخاراحمد نے ادارے میں اپنا انوکھا قانون نافذ کر دیا اس ضمن میں ایک ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی نے شہر کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے رہائش اختیار کرنے سے معذرت کر لی اور شہر میں خطرات اور نا مناسب حالات کی وجہ سے ذاتی دستخطوں سے مالاکنڈ میں رہائش اختیار کرنے کا انوکھا حکم نامہ جاری کر دیا ۔جس کے اخراجات یونیورسٹی کو برداشت کرنا ہوں گے مذکورہ حکم نامہ کے تحت جاری نوٹیفکیشن نمبر Reg/Aust/2017/2205 بتاریخ یکم اگست 2017 میں واضح کیا گیا کہ چونکہ ایبٹ آباد میں سیکیورٹی کی صورتحال نا مناسب ہے لہٰذاوائس چانسلر موصوف یونیورسٹی خرچ پر مالا کنڈ میں رہائش رکھیں گے جس کے تمام داخیات ایبٹ آباد یونیورسٹی کو ادا کرنا ہوں گے ۔

یہاں پر یہ امر دلچسپ ہے کہ موصوف مالاکنڈ میں اپنی رہائش گاہ تک آنے جانے کیلئے بارہ گھنٹے کا سفر بھی طے کررہے ہیں۔ اسکے علاوہ موصوف روزانہ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ جس کے تحت موصوف اپنی ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کیلئے کار ہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں جو بلا شبہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ بنتا ہے ذرائع نے مزید کہا وائس چانسلر کا اقدام یونیورسٹی ایکٹ کی شق 12(6) کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور مذکورہ حکم نامہ موصوف کی تعیناتی کے قوائد و ضوابط کے برعکس اور حکومتی خزانے کی لوٹ مار کا نیا طریقہ ہے ۔ذرائع نے کہا کہ وائس چانسلر موصوف کا اقدام ایبٹ آباد کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے منہ پر طمانچہ اور بھتہ خوری کی بد ترین مثال ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔


Comments

comments