ایبٹ آباد بورڈ کی منتقلی کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی: شوکت ہارون خان۔


ایبٹ آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ممبر ضلع کونسل شوکت ہارون خان نے کہاہے کہ ایبٹ آباد بورڈ کی منتقلی کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔ایبٹ آباد بورڈ کا قیام 1980کی دہائی میں عمل میں لایا گیا ۔ایبٹ آباداپنی خود مختار عمارت کا مالک ہے اور کے پی کے میں سب سے بڑی تعداد میں طلباء ایبٹ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں ۔ صحافیوں سے بات چیت کے دوران شوکت ہارون خان کا کہنا تھا کہ بیوورکریسی ہوش کے ناخن لے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے اداروں کو تباہ نہ کرے ایبٹ آباد بورڈ ہمارا قیمتی اثاثہ ہے جس کی حفاظت کرنا ہم جانتے ہیں موجودہ ایبٹ آباد بورڈ کو سب آفس بنانے کی ہر سازش کامقابلہ کرینگے۔ صوبائی حکومت انوکھے انوکھے فیصلے کر رہی ہے۔تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے لگا لگا کر عوام کو بیوقوف بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، ایبٹ آباد بورڈ میں سینکڑوں ملازمین کو یرغمال بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ اگر اس پر صوبائی حکومت نے کام دھرا تو میں ایبٹ آباد اور دیگر صوبے بورڈ ملازمین کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہو گی۔

ممبرضلع کونسل نے مزیدکہاکہ ایبٹ آباد بورڈ بڑی کوششوں اور قربانیوں کی بدولت قائم ہوا جس کو بیوروکریسی کی سازشوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے بورڈوں کی خودمختیاری ہی انکی کامیابی کی اصل وجہ ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت آئے روز نئے نئے کارنامے سر انجام دیکر ملازمین اور عوام میں پریشانی بڑھا رہے ہیں صوبے کے تمام بورڈز کو انکی موجود ہ حالت میں چھوڑا جائے ورنہ بورڈ ملازمین کے ساتھ بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ دار حکومت ہوگی ۔


Comments

comments