نواں شہر کی گلیوں میں مٹی کے ڈھیرجمع ہوگئے۔ شہری سراپا احتجاج۔


نواں شہر کو ایک بار پھر پتھر کے دور میں دھکیل دیا گیا پرانے زمانے کے دور میں واپسی پر نواں شہر کے لوگ سراپہ احتجاج بن گئے عوامی نمائندوں کو بھی چپ کا روزہ لگ گیا عوام اپنی داد رسی کے لیے جائیں تو کہاں جائیں ؟نواں شہر کے مکینوں کے مطابق تقریبا تین ہفتوں سے نواں میں گیس کی نئی پائپ لائن ڈالنے کے لیے گلیوں کی کھدائیاں کی گئیں اور گلیوں کو کھنڈرات بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے گندگی،کیچڑ اور دھول سے عوام کی زندگی اجیرن بن گئی۔ تین ہفتے گزرنے کے باوجود گیس کی پائپ لائن ڈالنے کے بعد مٹی کو اٹھایا نہیں گیا جس کی وجہ سے نواں شہر کے رہائشی نہایت ہی ذہنی اذیت میں مبتلاہونے کے ساتھ ساتھ سانس اور دیگر معلق بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور عوام سراپا احتجاج ہیں کہ مٹی اٹھانے کا کام فورا مکمل کر کے عوام کو اس عذاب سے فورا نجات دلواء جائے ۔نواں شہر کے رہائشیوں نے ارباب اختیار اور متعلقہ اداروں اور انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ سے اس پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ شہری سکون کی سانس لیں سکیں وگرنہ عوام اپنے حق کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔


Comments

comments