سلطان العارفین خان تحریک صوبہ ہزارہ کے قائمقام چیئرمین بن گئے۔


ایبٹ آباد:سلطان العارفین خان جدون کو تحریک صوبہ ہزارہ پاکستان کا قائم مقام چئیر مین منتخب کر لیا گیا ،سلطان العارفیں خان جدون مرکزی سیکرٹری جنرل کے ساتھ ساتھ تحریک نئے چئیر مین کے انتخاب تک قائم مقام چئیر مین کی ذمہ داریاں بھی ادا کریں گے،بروز سوموارکے روز پریش کلب ایبٹ آباد میں پریس کانفرنس کے ذریعے پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔یہ فیصلہ تحریک صوبہ ہزارہ کپاکستان کی سینٹرل ایکشن کمیٹی و پارٹی عہدیداروں کے ایک اہم اجلاس منعقدہ ضلعی سیکرٹر یٹ ایبٹ آباد میں کیا گیا جلاس کی صدارت مرکزی ڈپٹی سیکرٹری سردار گل زیب کر رہے تھے ،اجلاس میں دوسروں کے علاوہ صابر خان جدون ،شفقت خان جدون ،سردار محمد آصف ،سجاد احمد کیانی ،حیدر زاعزاز ،عابد قریشی ،سرفراز گل ،سردار محمد اقبال ،سردار غلام محمد ،سہراب خان ،وقاص گل ،گل نواز عباسی ،عدیل شیخ ،سلطان العرفین خان جدون ،سردار محمد جاوید اور شکیل انور انجم نے شرکت کی ۔

اجلاس میں ایک متفقہ قرار د ادکے ذریعے ایک دو رکنی کمیٹی قائم کی گئی جو کہ کارکنوں کے مسائل کے حل کے اقدامات کرے گی کمیٹی میں سجاد احمد کیانی اور صابر خان جدون شامل ہیں ۔ اجلاس میں تحریک صوبہ ہزارہ کو بحال بنانے سمیت دیگر پارٹی امور کی انجام دہی پر بھی بحث کی گئی ہے اور کہا گیا کہ قائد تحریک بابا سردار حیدر زمان خان کی ناگہانی وفات کے بعد پارٹی سمیت تمام ہزارہ وال قوم کو منظم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے جس کیلئے ہر مخلص شخص جو کہ تحریک میں اپنا کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے اس کیلئے تحریک کے دروازے کھلے ہیں ۔

اس موقع پر قائم مقام چئیرمین تحریک صوبہ ہزارہ سلطان العارفین خان جدون نے کہا کہ قائد تحریک با با سردار حیدر زمان خان کے مشن صوبہ ہزارہ کے قیام کو عمل جامہ پہنانے کیلئے ہر قسم کی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے ہزارہ وال کو ایک پلیٹ فارم پر متحدہونا پڑے گا ،انہوں نے کہا کہ کل کی نسبت آج تحریک کو سنبھالہ دیانا انتہائی مشکل ہوچکا ہے کیونکہ کل بابا کا سایہ ہمارے سروں پر موجود تھا تو ہمیں کوئی فکر نہ تھی لیکن آج بابا ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن میں ہر ہزارہ وال سے اپیل کروں گا کہ وہ بابا کے مشن اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے کیلئے یکجا ہو کر جدوجہد کریں ۔انہوں نے کہا کہ سوموار کے روز باقائدہ پریس کانفرنس کے ذریعے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔


Comments

comments