خطیب ہزارہ مولانا شفیق الرحمن کی تاریخی نمازجنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت۔


ایبٹ آباد:خطیب ہزارہ مولانا شفیق الرحمن کی تاریخی نمازجنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت۔مقامی ذرائع کے مطابق خطیب ہزارہ مفتی مولانا شفیق الرحمن طویل علالت کے بعد بدھ کے روز بینظیرٹیچنگ شہید ہسپتال ایبٹ آباد میں انتقال کر گئے تھے۔ مرحوم گزشتہ دو ہفتوں سے سینے اور پھیپھٹروں کے امراض میں مبتلاء تھے اور آئی سی یو میں زیر علاج تھے ۔مرحوم کی نماز جنازہ کالج گراؤنڈ ایبٹ آباد میں ادا کی گئی۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مولانا شفیق الرحمن کی نمازجنازہ لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی وجہ سے تاریخی حیثیت حاصل کرگئی۔نمازجنازہ کے بعد مولانا شفیق الرحمن کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا۔

مولاناشفیق الرحمن گزشتہ کئی عشروں سے ایبٹ آباد میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک رہنے کے ساتھ ساتھ مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد کے خطیب بھی رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے نہ صرف ہزارہ بلکہ صوبہ خیبر پختونخواہ و ملک کے مذہبی حلقوں میں ایک نام کمایا اور مرحوم آخری دم تک جمعیت علماء اسلام سے منسلک رہے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی اور صوبائی عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں ایبٹ آباد سمیت ہزارہ بھر کی عوام انہیں قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے اور دینی معاملات میں ان سے رہنمائی لیتی رہی ہے ایبٹ آباد میں امن کے قیام، مزہبی ہم آہنگی میں ان کا کردار مثبت اور کلیدی رہا ہے ۔

مرحوم ایک خطیب کے ساتھ ساتھ ایبٹ آباد کے گنجان آباد علاقے کیہال میں گزشتہ کئی عشروں سے ایک دینی مدرسہ بھی چلا رہے تھے جس میں ہمہ وقت سینکڑوں طلباء و طالبات دینی علم سے روشناس ہوتے رہے ہیں انہوں نے اس عرصے کے دوران دینی علم سے سر شار ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات پیدا کئے جو آج اندرون ملک اور بیرون ملک دین کی سربلندی اور دعوت و تبلیغ میں سر گرم عمل ہیں مرحوم ہنس مکھ، خوش اخلاق طبیعت کی وجہ سے ایک وسیع حلقہ احباب رکھتے ہیں ۔


Comments

comments