اسلامک فاؤنڈیشن اسکول خواتین اساتذہ کیلئے بیگارکیمپ بن گیا۔


قلندر آباد میں نجی تعلیمی ادارے کے مالک نے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کرنے پر ٹیچرز کو نوکری سے نکال دیا ۔ ایم اے ٹیچر کو تین سال سے صرف 6ہزار دو سو روپے تنخواہ دی جاتی تھی اور چھٹی کرنے پر کاٹ لی جاتی تھی ۔ نجی تعلیمی ادارے کا مالک اسلام کا دوکاندار بنا ہوا ہے ۔ وقار نامی شخص خواتین اساتذہ کا معاشی استحصال بھی مذہبی فریضہ سمجھ کر کرتا ہے ۔ سکول میں پانچ سے چھ سو بچے زیر تعلیم ہیں جن سے ماہانہ سات لاکھ روپے کی بچت کرنے والا ادارہ بھی ٹیچرز کو فوری نوٹس پر نکال رہا ہے متاثرہ ٹیچرز نے محکمہ تعلیم ایبٹ آباد بورڈ اور دیگر مجاز حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

خواتین ٹیچرز نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین چار سال سے عثمانیہ اسلامک فاؤنڈیشن نامی سکول کی لودھی آباد برانچ میں ٹیچنگ کرتی تھیں ۔ ادارے کا مالک ماہانہ چھ سے نو لاکھ روپے سکول سے کماتا ہے لیکن ایم اے ٹیچرز کو بھی تین سال سے چھ ہزار دو سو روپے تنخواہ پر رکھا ہوا تھا ۔ ہم نے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کیا تو ہمیں موبائل پر میسج بھیج کر سکول سے فارغ کر دیا گیا ۔ خواتین اساتذہ نے بتایا کہ وہ اس کم تنخواہ پر بھی مجبوری سے آمادہ ہوئی تھیں ۔ لیکن ماسٹر ڈگری ہونے کے باوجود ہماری تنخواہیں چھ ہزار تک رہی رکھی گئیں ۔ اس کے علاوہ ہم سے سکیورٹی بھی لی گئی تھی لیکن ہمیں اور ہماری جاب کو پھر بھی کوئی تحفظ نہیں دیا گیا ۔ خواتین اساتذہ کا کہنا تھا کہ اس صریحا معاشی استحصال اور ایک نوٹس پر فارغ کرنے والے ادارے کے خلاف محکمہ تعلیم اور ایبٹ آباد بورڈ سمیت جملہ ذمہ داران نوٹس لیں ۔ یہ ادارہ ایک ایک بچے سے داخلے کے نام پر دس دس ہزار وصول کرتا ہے اور ماہانہ صرف بچوں کی فیسیں نو لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہیں ۔ اتنی کمائی کرنے کے باوجود ادارے کا مالک اسلام کی آڑ میں خواتین اساتذہ کو ان کا حق ادا نہیں کر رہا ۔ اس کے علاوہ ساتھ ایک مدرسہ بھی ہے جس کے چندے اور دیگر سٹیشنری وغیرہ کی مد میں مذید کمائی کی جا رہی ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس ادارے کا مالک سکول کے اندر سٹیشنری اضافی قیمتوں پر بیچتا ہے اور والدین کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ سٹیشنری وغیرہ یہیں سے خریدیں گے ۔

اسلام کے نام پر دوکانداری کرنے والے اس شخص کے خلاف مجاز حکام کو ایکشن لینا چاہیئے ۔اس بارے میں جب مذکورہ سکول کے مالک سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود اتنی کم تنخواہیں دینے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے ان ٹیچرز کو تنخواہوں میں اضافے کا کہا تھا کہ آٹھ ہزار روپے تک لے لیں ۔ لیکن وہ اس پر تیار نہیں ہوئیں تو میں نے انہیں میسج بھیجا کہ وہ سکول نہ آئیں۔ سکیورٹی کی رقم کے حوالے سے وقار نامی ادارے کے مالک نے بتایا کہ سکیورٹی کے لیئے لی گئی رقم آج انہیں واپس مل جائے گی۔


Comments

comments