بیوی اورتین بیٹیوں کاقاتل دھمکیاں دینے لگا۔


ہری پور(یاور حیات )اپنی بیوی اور تین بچیوں کو زہر دے کر مارنے والے سفاک ملزم شفاقت زمان کے سسر اختر محمود نے وزیر اعظم عمران خان اور چیف جسٹس سے سو موٹو ایکشن لے کر مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی درخواست کر دی ملزم بااثر ہے جیل میں بیٹھ کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے چار ماہ گزر نے کے باوجود کیس کا ٹرائل شروع نہیں ہو سکا ہے حکومت اس کیس کے لیے پراسیکیوٹر فراہم کرے ہماری جانوں کو بھی خطرہ ہے سیاسی مداخلت سے کیس کو خراب کیا جا رہا ہے ۔

مقتولہ خاتون کے والد نے پریس کانفرس کے دوران بتایا ہے کہ میرے داماد ملزم شفاقت زمان نے جائیداد کے حصول کے لیے میری بیٹی اور تین نواسیوں زرقہ ایمان زینب کو ان کے باپ نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر چاہ ما قبل زہر دے ہاتھ پاؤں باندھ کر قتل کر کیا اور موقع سے فرار ہو گیا پولیس نے گرفتار تو کر لیا اور جیل روانہ کر دیا مگر پولیس نے ابھی تک فنگر پرنٹ کی رپورٹ میں رد بدل کر دیا ہے ہم کوپولیس کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ بچیوں کے ہاتھ پاؤں جن رسیوں سے بندھے گے تھے ان پر داماد کے فنگر پرنٹ موجود نہیں ہیں عینی گواہ ٹیکسی ڈرائیور کو بھی دھمکایا جا رہا ہے جو ملزم شوہر کو واردات کی رات گھر لے کر آیا تھا کہ گواہی نہ دی جائے انھوں نے کہا میں ریٹائرڈ ہوں بارہ ہزار پینشن پر گزارہ کر رہا ہوں سیاسی مداخلت کی وجہ سے کیس کو خراب کیاجا رہا ہے بدقسمتی سے پولیس نے اس کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کی ہیں ملزم باثر ہے جیل سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہے اہل علاقہ کو بھی جیل سے فون کرکے ڈرا یا جا رہا ہے ملزم کی پشت پناہی نااثر افراد کر رہے ہیں ستر سالہ بزرگ اختر محمود اپنے بھتیجے یاسر کے ہمراہ ہری پور پریس کلب میں ہنگامی پریس پریس کانفرس کے دوران آبدیدہ ہو گے انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری وکیل فراہم کیا جائے اور وزیر اعظم عمران خان چیف جسٹس از خود نوٹس لے کر ہماری جانوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں


Comments

comments