آئی ایس ایف کے جنرل سیکرٹری کااغواء کے بعد نوجوان پربھیانک تشدد۔


ایبٹ آباد:پی ٹی آئی کی تبدیل کردہ پولیس کا زبردست کارنامہ پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری کا بارہ افراد کے ہمراہ نوجوان پر تشدد کے بعد اغواء کرلیا یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری کے حجرہ سے اغواء ہو نے والے نوجوان کو زخمی حالت میں پولیس نے بازیاب کرلیا تاہم پولیس ایف آئی آر میں یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری کے خلاف اغواء کی دفعا ت لگانا بھول گی ایف آئی آر میں نامزد ملزمان نے عبوری ضمانتیں حاصل کرلیں بازیاب ہونے والے نوجوان کے والد کا آئی جی خیبر پختوانخواہ سے نوٹس لینے کامطالبہ ۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روزکھلابٹ ٹاؤن شپ کے رہائشی بابر خان ولد خان افسر نے پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کراتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ گزشتہ رات میں اپنے جواں سالہ بیٹے سیف اللہ خان کے ہمراہ گھر کے باہراتمان چوک میں کھڑا تھا کہ میرے ملزمان کے ساتھ آمنا سامنا ہو گیا جن کے ساتھ میرے بیٹے کا دو لاکھ روپے کی رقم کا تنازعہ چل رہا ہے ملزمان نے پاکستان یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری اللہ یار خان کے والد حسر ت خان کو فون کرکے بلایا اور کہا کہ میرا بیٹا سیف اللہ رقم مانگ رہاہے جس پر حسرت خان اپنی گاڑی میں اپنے بیٹے دیگر افراد کے ہمراہ آیا اور میرے بیٹے پر مبینہ تشدد شروع کر دیا اور زبرستی اٹھا کر گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گے جس پر پولیس نے والد کی رپورٹ پر علت نمبر188کے تحت زیر دفعات342/506/34کے تحت مقدمہ درج کرکے نوجوان کو بازیاب کرانے کے لیے پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری اللہ یار خان کے حجرے پر چھاپہ مار کرکے زخمی نوجوان کو بازیاب کر الیا ہے مگر ایف آئی آر میں اغواء کی دفعات لکھنا بھول گئے جس پر والدنے شدیداحتجاج کرتے ہوئے ڈی آئی جی ہزارہ ڈی پی اوہری پور آئی جی خیبر پختوانخواہ سے نوٹس لے کر انصاف فراہمی کامطالبہ کیا ہے واقعہ پر شہریوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے کارکردگی دکھانے کے لیے حجرے پر چھاپہ مار کے نوجوان کو تو بازیاب کرلیا ہے مگر ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے یوتھ جنرل سیکرٹری سمیت اس کے والد کے خلاف اغواء کی دفعات لگانا بھولی نہیں بلکہ ان کو ریلیف دینے کی ساز ش ہے جس سے غیر سیاسی پولیس کا پول بھی کھل گیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں نامزد افرا دنے مقامی عدالت سے عبوری ضمانتیں حاصل کر لی ہیں راضی نامے کے لیے سیاسی پنڈ ت بھی متحرک ہو گے ہیں


Comments

comments