مشتاق غنی کیلئے نئی پریشانی۔ ذوالفقار علی بھٹوگجربھی مدمقابل آگئے۔


جن پتھروں کو عطاء کی تھی ہم نے دھڑکن۔ان کو زباں ملی تو ہمی پر برس پڑے۔

ایبٹ آباد:مشتاق غنی کیلئے نئی پریشانی۔ وائس چیئرمین کینٹ بورڈذوالفقار علی بھٹوبھی مدمقابل میدان میں آگئے۔ ذرائع کے مطابق 2015ء کے کنٹونمنٹ الیکشن میں کاکول اورقومی وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو گجر کو اس امید پر پاکستان تحریک انصاف میں شامل کروایاگیاتھاکہ وہ بلدیاتی انتخابات میں نہ صرف علی خان جدون بلکہ 2018ء کے عام انتخابات میں مشتاق احمد غنی کی بھی بھرپور سپورٹ اور حمایت کریں گے۔کنٹونمنٹ کے انتخابات کے بعد جب کنٹونمنٹ کے وائس چیئرمین کے چناؤ کا مرحلہ آیا توذوالفقار علی بھٹوگجر کو سپورٹ اورحمایت کی امید پر وائس چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیاگیا۔

ذرائع کے مطابق کنٹونمنٹ کے الیکشن کیلئے جب ذوالفقار علی بھٹو گجر کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیاگیا تو مشتاق غنی کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ وہ 2018ء کے الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔ لیکن سابق چیئرمین گلزیر نے یہ شرط ماننے سے انکار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے سے بھی انکار کردیاتھا۔ لیکن پھر بھی مجبوری کے تحت ذوالفقار علی بھٹو گجر کو کینٹ بورڈ کو وائس چیئرمین بنا دیاگیا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو گجر پی ٹی آئی قائدین کی امیدوں پر پورا نہ اترسکے۔ اور انہوں نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی سپورٹ کی بجائے اپنے مخصوص ایجنڈے پر گامزن رہے۔ ذرائع کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو گجر جو کہ خودبظاہر پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ لیکن موصوف کے بیٹے سمیت خاندان کے دیگر لوگ بدستور قومی وطن پارٹی کے مختلف اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ اور انہوں نے 2018ء کے عام انتخابات میں مشتاق احمد غنی کے مدمقابل الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے مشتاق احمد غنی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔ ذوالفقار علی بھٹوگجر جوکہ حلقہ پی کے انتالیس کا الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں تو بالکل نہیں ہیں۔ تاہم وہ مشتاق احمد غنی کے ووٹ ضرور خراب کریں گے۔ جس کی وجہ سے الیکشن میں مشتاق غنی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچے گا۔


Comments

comments