ایبٹ آباد‘بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ)ضلعی خطیب مفتی عبدالواجد نے کہاہے کہ اسلام اقلیتوں کو برابری کے حقوق دیتا ہے،کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی قتل وغارت، اور کرک میں مندرکو جلانے کے واقعات اسلامی معاشرہ کی عکاسی نہیں کرتے ان خیالات کااظہار انہوں نے ایبٹ آباد پریس کلب میں بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالہ سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سینٹ لوقس چرچ کے پادری رفیق جاوید،ہندو کمیونٹی کیدرشن لال،امجد خان یوسفزئی ایف ایف جی گروپ، پریس بائیٹرین چرچز کے ڈائریکٹر زاکر حسین پال ایڈووکیٹ، عنبر ایڈووکیٹ،عابد شاہ ترمذی بھی موجود تھے،ڈسٹرکٹ خطیب مولانا عبدالواجد نے کہا کہ اسلام امن، رواداری، پیار محبت کا درس دیتا ہے،نبی آخر الزمان نے صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے خصوصی ارشادات فرمائے ہیں کہ ان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے،اور کسی کو زبردستی مذہب تبدیل کرانے کی اجازت نہیں دیتا۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والوں کا کہنا تھا مذہبی آزادی کے حوالہ سے ہزارہ ہمیشہ سے پرامن خطہ رہا ہے،یہاں بسنے والی اقلیت کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا جس کی بنیادی وجوہات مسلمانوں نے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے،ڈسٹرکٹ خطیب مفتی عبدالواجد کا کہنا تھا اسلام میں کسی اقلیت سے زبردستی مذہب تبدیلی میں دباؤ کا کوئی تصور موجود نہیں ہے،دہشت گردی کرنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کرک میں ہندو کمیونٹی کیمندر کو جلانے کے واقع کی مذمت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں اقلیتوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں،جس میں تمام مذائب کو مذہبی رسومات کی ادائیگی میں آزادی دی گئی ہے،مفتی عبدالواجد کا کہنا تھا پاکستان کلمہ کے وجود میں آیا۔ بانی پاکستان قائد محمد علی جناح نے ابتدائی فرمودات میں اقلیتوں کو مکمل امن کے ساتھ مذہبی آزادی پر زور دیا ہے،وطن عزیز میں ہندو،سکھ،مسیحی سمیت تمام مذاہب کے لوگ امن سے زندگی گزار رہے ہیں اور اس حوالہ تمام مذہبی شخصیات کا احترام ضروری ہے انہوں نے کہا اسلام میں تمام مذہبی مقامات کے تحفظ کا حکم ہے،اسلام کم عمری اور ذبردستی کی شادیوں کی بھی اجازت نہیں دیتاہے،اج اس بات کا تہیہ کرتے ہیں ملک میں امن کے قیام اور اس کی ترقی کے لئے کوشاں رہیں گے،اس موقع مسیحی،ہندو کمیونٹی کے رہنماؤں نے بھی اپنے خطاب میں مذہبی آزادی ملنے کا اقرار کیا،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے،انہوں نے کرک مندر کو جلانے کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!