ہمارا فیس بک پیج

ایبٹ آباد کاخودساختہ سٹیک ہولڈرکمیشن ایجنٹ بن گیا۔

ایبٹ آباد میں اعلیٰ عہدہ سے ریٹائرڈ ہونے والے آفیسر نے ہزارہ ڈویژن باالخصوص ایبٹ آباد ضلع میں اعلیٰ سرکاری افسران کی جی حضوری کرتے ہوئے اپنے آپ کو خود ساختہ سٹیک ہولڈر بنوا لیا ایبٹ آباد سمیت ہزارہ میں افسران کے لئے درباری پن کا مظاہرہ کرنے والے نام نہاد سٹیک ہولڈر نے بیوٹیفکیشن فنڈز میں افسران کے ساتھ مل کر کروڑوں کے فنڈز کا بے سود ضیاع کروایا اور پختہ سڑکوں پر دوبارہ ری کار پینٹنگ کروانے کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کے نالوں کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کروائی بلکہ شاہراہ ریشم پر نالوں کی ازسرنو تعمیر اور یوٹرن میں بھی بے جا مداخلت کرتے ہوئے کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ابھی تک قاصر ہیں اعلیٰ افسران کی جی حضوری اور اپنے ریٹائرڈ ہونے والے عہدہ کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے C.Pack منصوبہ مں دلالی کا کردار ادا کرتے ہوئے کمیشن ایجنٹ کا روپ دھار لیا ہے جبکہ ایبٹ آباد سمیت ہزارہ ریجن میں کبھی بھی کسی شہری کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر کبھی بھی لب کشائی نہیں کی اور نہ ہی متاثرہ افراد کی امداد اور انہیں انصاف دلوانے میں کبھی کوئی کردار ادا کیا ہے اور نہ ہی دوران سروس مقامی لوگوں کیلئے کوئی عوامی فلاحی کام کیلئے کوئی اقدامات اٹھانے کی زحمت تک نہیں کی ہے

ہزارہ کی عوام کیساتھ روزانہ کی بنیاد پر مختلف اداروں کی طرف سے حق تلفی پر بھی کبھی کوئی سٹیک ہولڈرز کا کردار ادا نہیں کیا ہے البتہ ہزارہ ایبٹ آباد میں تعینات افسران کی تعیناتی تک ان کی موجودگی میں قصیدہ گوئی کا کردارادا کرنے کیساتھ سرکاری افسران کی میٹنگ اور دیگر سرکاری تقریبات میں اعلیٰ افسران کی تعریفوں کے پل باندھنے میں نمایاں خدمات سرانجام دینے میں سرفہرست رہتے ہیں اس ضمن میں ایبٹ آباد کے سنجیدہ مقامی حلقوں اور سرکردہ شخصیات کا کہنا ہے کہ نام نہاد خود ساختہ سٹیک ہولڈر بننے والے شخص کا تعلق ایبٹ آباد سے نہیں ہے صرف افسران کی چاپلوسی کے بل بوتے پر سٹیک ہولڈر کے روپ میں C.Pack اور دیگر سرکاری و عوامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ خود ساختہ سٹیک ہولڈر نے واسا ممبر اور چیئرمینی کا خواب دیکھنے کی بھرپور کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہوئی ہے اور نام نہاد سٹیک ہولڈر کے اپنے سسرال خاندان کے ساتھ متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور کہا کہ جس شخص کا اپنا خاندان ہزارہ میں آباد ہی نہیں اور سسرال خاندان کے ساتھ عدالتوں میں مقدمات موجود ہیں وہ کیسے یہاں کے باسیوں کا سٹیک ہولڈر ہو سکتا ہے جو یہاں کے سرکردہ اور حقیقی سٹیک ہولڈر کیلئے سوالیہ نشان ہے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!