وقاراللہ قتل کیس کا ڈراپ۔ پولیس نے دعویداری والافارمولااستعمال کرلیا۔ تین گرفتار۔

ایبٹ آباد:وقاراللہ قتل کیس کا ڈراپ۔ پولیس نے دعویداری والافارمولااستعمال کرلیا۔ تین گرفتار۔اس ضمن میں پولیس ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ لوئردیر کے رہائشی زاہد کا جواں سالہ بیٹا وقار اللہ ورچوئیل یونیورسٹی ایبٹ آباد کا طالبعلم تھا۔ زاہد اوراس کی فیملی نے ایبٹ آباد میں ایک کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی ہوئی تھی۔ وقار اللہ منگل کی شب گھرکے سامان کی خریداری کیلئے کامسیٹس یونیورسٹی روڈ پر ایک دوکان میں خریداری کیلئے آیا۔ اسی اثناء میں ایک شلوارقمیض پہنے ایک سفاک قاتل بھی دوکان میں داخل ہوا۔ اپنی موت سے بے خبروقار اللہ سامان خریدنے میں مصروف تھا کہ سفاک قاتل نے اس کی شناخت کی تصدیق کیلئے اس کیساتھ بات چیت کی۔ وقار اللہ کا چہرہ دیکھنے کے بعد سفاک قاتل نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں خاموشی سے لوڈپستول نکالا اور انتہائی مہارت کے ساتھ وقار اللہ کے سراورچہرے پر گولیاں برسادیں یہ کارروائی بمشکل تین سے چارسکینڈ میں مکمل کرنے کے بعد قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ابتداء میں وقار اللہ کے لواحقین نے نامعلوم افراد کیخلاف قتل کی دعویداری تھانہ میرپور میں کی۔ تاہم پولیس کیلئے قاتل کو پکڑنا انتہائی مشکل کام تھا۔ کیونکہ سوشل میڈیا اور وٹس ایپ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں قاتل کا چہرہ اندھیرے کی وجہ سے ناقابل شناخت تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقتول وقاراللہ کے بھائی یزمان خان ولد محمد زاہد نے کچھ عرصہ قبل لوئردیر کے رہائشی غلام حق باچا کی بیٹی کوگھرسے بھگا کر کورٹ میرج کرلی تھی اور اس کا بھائی یزمان خان بھی ایبٹ آباد میں چھپ کر رہ رہاتھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق وقار اللہ اپنے بھائی یزمان خان کا ہم شکل تھا۔اور مبینہ طور پر غلام حق باچا کے بیٹوں واحد، منیر اور رحم خان نے غیرت کے نام پر یزمان خان کو قتل کروایا۔ تاہم قتل کرنیوالے شخص نے غلطی سے یزمان خان کے ہم شکل بھائی وقار اللہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد پولیس کے شعبہ تفتیش نے کیس کی ٹھیک طرح سے تفتیش کرنے کی بجائے دعویداری والا فارمولا استعمال کیا۔ اور مقتول وقار اللہ کے لواحقین سے غلام حق باچا کے بیٹوں پر دعویداری کرادی۔ جس کے بعد ایبٹ آباد پولیس کی ٹیم لوئر دیر پہنچ گئی۔ جہاں سے جمعہ کے روز وقاراللہ قتل کیس میں نامزد غلام حق باچاکے تین بیٹوں کو گرفتار کرلیاگیا۔ جنہیں ایبٹ آباد منتقل کیا جارہاہے۔

اس حوالے سے ایبٹ آباد پولیس کے شعبہ تفتیش کے ایک سینئر آفیسرسے سوال کیاگیا کہ اس اہم قتل کیس کی تفتیش میں قاتلوں کو کیسے ٹریس کیا گیا تو پولیس آفیسر کا کہناتھاکہ محض دعویداری کی بنیاد ملزمان کو نامزدکیاگیاہے۔ شعبہ تفتیش کے آفیسر سے دوسرا سوال یہ کیاگیا کہ کیا مقتول وقار اللہ کے موبائل فون کی سی ڈی آر کا تجزیہ کیاگیاہے؟ جس کے جواب میں آفیسر کا کہناتھاکہ ”سی ڈی آر منگوانے میں ایک ہفتے کا ٹائم لگ جاتاہے۔ ابھی تک وقار اللہ کے زیر استعمال موبائل فون نمبروں کی سی ڈی آر نہیں مل سکی اور نہ ہی اس کا تجزیہ کیاگیاہے۔ واضح رہے کہ ایبٹ آباد پولیس کا شعبہ تفتیش محض مفروضوں کی بنیاد پر اہم کیسوں کی تفتیش کرتاہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان عدالتوں سے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ جس کا اثر نہ صرف عدالتوں کی کارکردگی پر پڑتاہے۔ بلکہ معاشرے میں قتل مقاتلوں میں مزید اضافہ ہوتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون میں دعویداری کرنے کا نظام ختم کیا جائے۔ بغیر کسی ثبوت کے کسی بے گناہ شخص کو محض دعویداری اور مفروضوں کی بنیاد پر کیسوں میں پھنسادیتی ہے۔ اس طریقہ کار اورنظام کو ختم کیاجائے۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کسی بھی شخص کو کیس میں نامزد یا ملوث نہ کیاجائے۔

Facebook Comments