ہمارا فیس بک پیج

ایبٹ آباد پولیس کی منشیات فروشوں کیخلاف مہم دم توڑ گئی۔ منشیات فروشوں کو کھلی ڈھیل۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سپیشل کی ٹیمیں بھی ختم کردی گئیں۔

ایبٹ آباد (وائس آف ہزارہ) ایبٹ آباد پولیس کی منشیات فروشوں کیخلاف مہم دم توڑ گئی۔ منشیات فروشوں کو کھلی ڈھیل۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سپیشل کی ٹیمیں بھی ختم کردی گئیں۔ نوجوان نسل تباہی کے راستے پر گامزن۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایاکہ ایبٹ آباد کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز نے منشیات فروشوں کیخلاف ہاتھ ڈھیلا کررکھا ہے۔ ایبٹ آباد میں یومیہ لاکھوں روپے کی آئس، چرس اور شراب فروخت کی جارہی ہے۔ پولیس پہلے برائے نام پرچے درج کر لیتی تھی۔ لیکن پچھلے ایک ماہ سے پولیس نے منشیات فروشوں پر کیخلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی۔

ایبٹ آباد میں منشیات فروشی کا یہ عالم ہے کہ آج سے ایک سال قبل تک ایبٹ آباد میں ترک منشیات کا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ لیکن پولیس کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اب ایبٹ آباد میں ترک منشیات کے دو ہسپتال کام کررہے ہیں۔ جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید نئے ترک منشیات کے ادارے کھلنے جا رہے ہیں۔ آئس کی وجہ سے خاندان کے خاندان تباہ ہو چکے ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کو آئس کا عادی بنا کرانہیں بلیک میل کرکے مزید لڑکیوں کو اس جان لیوا نشے آئس کا عادی بنایا جارہا ہے۔ منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیاں کرنے والے ایبٹ آباد پولیس کے جانباز اہلکار یاتو پولیس لائن میں ہیں یا ان کو بطور سزا دور دراز کے علاقوں میں ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی نہیں کررہے۔ جبکہ دوسری جانب کچھ عرصہ قبل نامی گرامی منشیات فروش کی جھوٹی شکایت پر ایبٹ آباد پولیس کے جانباز اہلکار میرافگن کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ جس سے منشیات فروشوں کے حوصلے مزید بلند ہوگئے اور انہوں نے دھڑا دھڑ پولیس اہلکاروں کیخلاف جھوٹی شکایات کے انبار لگادیئے۔ جس پر منشیات فروشوں کی بجائے پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائیاں شروع کردی گئیں۔

ایبٹ آباد کے شہریوں نے انسپکٹر جنرل خیبرپختونخواہ پولیس اور ڈی آئی جی ہزارہ سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشوں کیخلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔ کیونکہ ایبٹ آبا دمیں آئس، چرس اور شراب وغیرہ گاجر مولی کی طرح فروخت ہو رہی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!