تعلیمی اداروں کے طلباء کو جان لیوانشے آئس کاعادی بنانے کیلئے لڑکیوں کا گروہ سرگرم۔ایک طالبعلم گولی کھانے سے نیم پاگل۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ)تعلیمی اداروں کے طلباء کو جان لیوانشے آئس کاعادی بنانے کیلئے لڑکیوں کا گروہ سرگرم۔ایک طالبعلم گولی کھانے سے نیم پاگل ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد میں مخصوص لوگوں نے چرس،بھنگ،ہیروئین کے بعد آئس جیسے مہنگے نشے کو پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور اس کے لیے پشاور اور لاہور سے خصوصی طور پر آئس کو منگوائی جارہی ہے۔ آئس نمک کی طرح ایک پاؤڈر ہے۔ اسلئے اس کوبا آسانی سمگل کیا جاسکتا ہے۔آئس نشے کے عادی افرادنے انکشاف کیا کہ فی گرام آئس نشہ دوسے تین ہزار روپے میں باآسانی مل جاتا ہے جبکہ اس کے ایک دفعہ پینے کا اثر 48سے 50 گھنٹوں تک موجود رہتا ہے۔جبکہ اس کے ڈیلروں نے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے کہ آئس کے استعمال سے قوت باہ (سیکس)میں اضافہ ہوتا ہے۔عوام کو دھوکے میں ڈال کر اس زہریلے نشے کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئس جیسے مضر ترین نشے نے تعلیمی اداروں کے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کو اپنے گرفت میں لے رکھاہے جبکہ اب یہ جان لیوا نشہ تیزی سے ایبٹ آباد کینٹ کے پوش علاقوں اورتعلیمی اداروں میں اپنی جڑیں پکڑ چکاہے۔ اس ضمن میں کامسیٹس یونیورسٹی سے ملنے والی معلومات کے مطابق منڈیاں کے اہم تعلیمی اداروں کے باہر دولڑکیاں اور تین لڑکوں پر مشتمل گروہ خطرناک نشہ آئس فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔ آئس کی گولی کھانے سے ایک نوجوان کے نیم پاگل ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے ڈی پی او ایبٹ آباد اور حساس اداروں سے آئس کا نشہ فروخت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!