شملہ پہاڑی توڑپھوڑکرنیوالے طلباء کی شناخت ہوگئی۔ اٹھارہ لاکھ کا نقصان۔ پولیس چوکی کے انچارج کی فوری برطرفی کا مطالبہ۔

ایبٹ آباد: شملہ پہاڑی پرطلباء کی توڑپھوڑپر پولیس چوکی کاانچارج خاموش۔ توڑپھوڑکرنیوالے ایک طالبعلم کی شناخت ہوگئی۔ شہریوں نے انچارج پولیس چوکی شملہ کی فوری برطرفی کا مطالبہ کردیا۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ تھانہ سٹی کی حدود میں واقع شملہ پہاڑی کے قریب واقع پولیس چوکی کا انچارج اے ایس آئی آفتاب تنولی ہے۔ جوکہ پچھلے کافی عرصہ سے سفارش کی وجہ سے اس اہم اور حساس چوکی پر تعینات ہے۔

ذرائع کے مطابق اے ایس آئی آفتاب تنولی مبینہ طور پرسی پیک سے چوری کئے جانیوالے سیمنٹ، سریا وغیرہ کو بھی آرپار کرانے میں ملوث ہے۔ متعدد مرتبہ چائنہ کے ٹرکوں سے چوری کیا جانیوالا ڈیزل موصوف نے پکڑا اورپھر چھوڑ دیا۔ ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل ایک نجی اسکول کے طلباء نے ٹک ٹاک بنانے کیلئے شملہ پہاڑی پر موجود قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی۔ جن میں سیمنٹ کی بنی ہوئی کرسیاں اور دیگر آرائشی چیزیں شامل ہیں۔ مقامی لوگوں نے اس توڑ پھوڑ کی اطلاع پولیس چوکی شملہ پہاڑی کے انچارج آفتاب تنولی کو دی۔ لیکن موصوف نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج کیا۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر توڑپھوڑ کی ویڈیو وائرہونے کے بعد تحصیل ناظم اسحاق سلیمانی نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او ایبٹ آباد کو طلباء کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق مصریال روڈراولپنڈی پر واقع بلیوسٹار پبلک اسکول کے طلباء کا ٹرپ سردیوں میں سیروتفریح کیلئے ایبٹ آباد آیا۔ جب یہ طلباء شملہ پہاڑی پر گئے تو ان میں راجہ قمر نامی طالبعلم نے شملہ پہاڑی پر توڑپھوڑ کی اورٹک ٹاک بنانے میں مصروف رہا۔

شملہ پہاڑی کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کرنیوالی کمپنی نجیب اللہ اینڈ کو کے جنیدامان خان کے مطابق طلباء کی توڑپھوڑ میں چودہ سے اٹھارہ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ بعض مقامی لوگ بھی آرائشی چیزوں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس حکام فوری طور پر پولیس چوکی شملہ پہاڑی کے انچارج سمیت تمام عملے کو فوری طور پر تبدیل کریں۔ اورتوڑپھوڑکرنیوالے طلباء کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے۔

Facebook Comments