17

بھارتی اوراسرائیلی جھنڈالہرانے والی ماڈل یونائیٹڈنیشن کاکامسیٹس ایبٹ آباد میں مخلوط پروگرام کا اعلان۔

ایبٹ آباد:بھارتی اوراسرائیلی جھنڈالہرانے والی ماڈل یونائیٹڈنیشن کاکامسیٹس میں مخلوط پروگرام کا اعلان۔اس ضمن میں ذرائع نے وائس آف ہزارہ کو بتایاکہ ایبٹ آباد میں چند نوسرباز قسم کے نوجوان پچھلے دوسال سے ایبٹ آبا دمیں ماڈل یونائیٹڈ نیشن کے نام پر فحاشی اور عریانی کے مخلوط پروگرام کرواتے چلے آرہے ہیں۔ چند ہفتے قبل ایبٹ آباد کے ایک نجی اسکول میں ان لوگوں نے بھارتی اور اسرائیلی پرچم بھی لہرادیئے۔ ان لوگوں کیخلاف تھانہ میرپور میں کارروائی کیلئے درخواست بھی دائر کی گئی۔ لیکن ان لوگوں کیخلاف کارروائی کرنے کی بجائے، حکومتی اداروں نے شکایت کرنیوالوں کیخلاف منفی پروپیگنڈا شروع کردیا۔ جبکہ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کی جانب سے بھی پولیس حکام کو بھارتی اور اسرائیلی پرچم لہرانے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ لیکن خفیہ ہاتھوں نے تمام کارروائی رکوا دی۔ماڈل یونائیٹڈ نیشن کے نام پر فحاشی و عریانی پھیلانے والے گروہ نے اپنا نام تبدیل کرکے”ایمپکٹ ماڈل یونائیٹڈ نیشن“ رکھ لیاہے اور اس نام نہاد تنظیم کی جانب سے میرپور کے ایک نجی اسکول میں ویلنٹائن ڈے منانے کا اہتمام کیاگیا۔تاہم وائس آف ہزارہ کی خبرپرایکشن کے بعد نجی اسکول کی انتظامیہ نے مذکورہ پروگرام کو منسوخ کردیا۔

ذرائع کے مطابق ماڈل یونائیٹڈ نیشن کی جانب سے کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں اٹھائیس فروری سے یکم مارچ تک ایک مخلوط پروگرام کا اعلان کیاگیاہے۔ جس میں غیرقانونی تعلقات رکھنے والے جوڑوں کو خصوصی طور پر مدعو کیاجارہاہے۔ تین روزہ اس مخلوط پروگرام میں رات کے وقت خصوصی طور پر میوزک کنسرٹ کا اہتمام بھی کیاگیاہے۔جس میں رجسٹریشن کے نام پر لوٹ مار کی جارہی ہے۔ ذاتی حیثیت میں شرکت کیلئے اڑھائی ہزار روپے، وفد کی صورت میں فی کس 2300روپے، آبزرور کے طور پر شرکت کیلئے ستائیس سو روپے فیس رکھی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر میسجز کے ذریعے یہ لوگ اپنی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ بظاہرعام لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے اس پروگرام کے منتظمین نے اپنے دعوت ناموں میں اقوام متحدہ کے مختلف شعبوں کے مونوگرام بھی دعوت ناموں پر لگائے گئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایبٹ آباد جیسے پرامن شہر میں اس قسم کے فحاشی کے پروگرام کسی بھی وقت بڑے امن و امان کا مسئلہ بن سکتے ہیں۔ سیکورٹی ادارے، ضلعی انتظامیہ اور علمائے کرام کا یہ فرض بنتاہے کہ فحاشی اورمخلوط پروگراموں کے انعقاد کو فوری طور پر روکا جائے۔بصورت دیگر امن و امان کا مسئلہ بننے کی صورت میں جانی و مالی نقصان ہوسکتاہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں