کینٹ الیکشن: پی ٹی آئی اورمسلم لیگ(ن) کو چارچارجبکہ پیپلزپارٹی کو ایک سیٹ ملنے کے قوی امکانات۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ) کینٹ الیکشن: پی ٹی آئی اورمسلم لیگ(ن) کو چارچارجبکہ پیپلزپارٹی کو ایک سیٹ ملنے کے قوی امکانات۔اس ضمن میں وائس آف ہزارہ کی ٹیم کی جانب سے کئے جانیوالے سروے کے مطابق کینٹ بورڈ کے الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ(ن)،پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں کافی تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ تمام امیدواروں نے اندرون خانہ جوڑتوڑ کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ اگر بات کی جائے کینٹ بورڈ وارڈنمبرایک کی تو اس وارڈ میں پی ٹی آئی کے امیدوار ناصر سلیمان عباسی کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔ اس وارڈ میں سردار برادری کے دو امیدوار سردار خورشید انور آزاد حیثیت اور سردار جاویدپاکستان مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے امیدوار ناصرسلیمان عباسی کی پوزیشن منڈیاں والی سائیڈ پر کافی مستحکم ہے۔ جبکہ جاوید شہید روڈ والی سائیڈ پر ناصر سلیمان عباسی کو کافی محنت کی ضرورت ہے۔ جبکہ جاوید شہید روڈ پر سردار خورشید انور کی پوزیشن دیگرامیدواروں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔

اگربات کی جائے وارڈ نمبر دو کی تو اس وارڈ میں پی ٹی آئی کے امیدوار تیمورخالد اور سابق ممبر کینٹ بورڈ واجد خان جدون جوکہ اس مرتبہ بھی آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ تیمورخالد اور واجد خان کے مابین ون ٹو ون مقابلہ متوقع ہے۔ اس وارڈ میں تیمورخالد کواپنی انتخابی مہم کو چلانے میں سخت محنت درکار ہے۔ جبکہ واجد خان کو پاکستان مسلم لیگ(ن)، جے یو آئی سمیت دیگرجماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس وارڈ کا فاتح کون ہوگا؟ اس کا فیصلہ جناح آباد کے لوگوں کے ووٹ کا فیصلہ کرے گا۔ لوئرجناح آباد میں تیمورخالد اور واجد خان کی پوزیشن برابر برابر ہے۔

وارڈ نمبرچار میں مسلم لیگی امیدوار بیداربخت عرف فقیراخان اور پی ٹی آئی کے امیدواربشیرخان کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ بشیرخان جوکہ سابق ممبر کینٹ بورڈ بھی ہیں کو بیداربخت عرف فقیرا خان پر کافی برتری حاصل ہے۔ ایم این اے علی خان جدون کو چیلنج کرنے کے بعد علی خان جدون اس وارڈ میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے بشیرخان کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔

وارڈنمبر پانچ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار فواد علی جدون کو پی ٹی آئی کے امیدوارفہیم گل اعوان کے مقابلے میں کافی برتری حاصل ہے۔ فواد علی جدون جوکہ پچھلے کئی سالوں سے اپنے علاقے کے عوام کی خدمت میں دن رات مصروف عمل ہیں۔ سیلابی پانی کا مسئلہ ہو یانڑیاں میں گندگی کا مسئلہ۔ فواد علی جدون ہمیشہ عوامی مسائل کے حل میں سب سے آگے رہے۔ فواد علی جدون ہر فورم پرعلاقائی مسائل کے حل کیلئے بھاگ دوڑ کرتے رہے۔ جس کی وجہ سے وارڈ نمبر پانچ میں فواد علی جدون کی پوزیشن کافی بہتر ہے۔ جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار فہیم گل اعوان نے اس سے قبل نہ تو کسی فورم پر علاقائی مسائل پر آواز اٹھائی نہ کہیں دکھائی دیئے۔جس کی وجہ سے فہیم گل اعوان کی پوزیشن کافی کمزور ہے۔ فوادعلی جدون عوامی خدمت کی بدولت وارڈ نمبر پانچ کا الیکشن جیتنے کی واضح پوزیشن میں ہیں۔

اگربات کی جائے وارڈنمبر چھ کی توآزادامیدوار سابق ممبر کینٹ بورڈ فیصل شاہ ایڈوکیٹ اورباسط علی زکی کے حمایت یافتہ امیدوارسیّدخرم شہزاد کی پوزیشن پاکستان مسلم لیگ(ن)کے امیدوارانجینئرملک طہماس، آزادامیدوار عثمان یونس اورپی ٹی آئی کے امیدوار احتشام الحق کے مقابلے میں کافی مستحکم ہے۔ سیّدخرم شہزادکو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ ہولڈروں کے مقابلے میں فیصل شاہ ایڈوکیٹ کی بدولت تمام برادریوں اور اہم شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے امیدواراحتشام الحق اور آزادامیدوار عثمان یونس بھی سخت مقابلہ کررہے ہیں۔ وارڈ نمبر چھ میں دیگر وارڈ ز کے مقابلے میں سخت مقابلے کی توقع ہے۔

اگربات کی جائے وارڈ نمبر آٹھ کی تو اس وارڈ میں پی ٹی آئی کے امیدواردانیال خان جدون کی پوزیشن دیگرتمام امیدواروں کے مقابلے میں انتہائی مضبوط اور مستحکم ہے۔اور پی ٹی آئی وارڈ نمبر آٹھ کا الیکشن بھاری اکثریت سے جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔

کینٹ بورڈ وارڈ نمبر نو میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارمحمد ہارون کی پوزیشن کافی بہترہے۔ جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ(ن) کے امیدوار سجاداختر جوکہ سابق ممبر کینٹ بورڈ بھی ہیں۔ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ مسلم لیگی امیدوار سجاد اختربنیادی طور پر ایک ٹھیکیدار ہیں۔ جنہوں نے اپنے پچھلے پانچ سالوں کے دوران کھڑیاں اور ملحقہ علاقوں میں ایک روپے کا کام بھی نہیں کروایا۔ کھڑیاں کا سرکاری پرائمری سکول پچھلے کئی سالوں سے آج بھی کرائے کی عمارت میں چل رہا ہے۔ موصوف کو اتنی توفیق نہیں ہوسکی کہ علاقے کے اکلوتے سرکاری سکول کیلئے جگہ کا بندوبست کرکے وہاں عمارت تعمیر کرادی جائے۔ ذرائع کے مطابق ملک سجاد کینٹ بورڈ کے ٹھیکے لینے میں مصروف رہے۔ کینٹ بورڈ کے تمام بڑے اورگلیوں نالیوں کی پختگی کے ٹھیکے بھی سجاد اختر کو ملتے رہے۔ ٹھیکوں کے حصول کیلئے سجاد اخترنے اپنے قریبی رشتہ دار کے نام پر ایک کمپنی بنا رکھی ہے۔ او رکینٹ بورڈ میں اندرون خانہ معاملات طے کرکے صرف ٹھیکوں کے حصول تک محدود رہے۔ جس کی وجہ سے ان کا وارڈ آج بھی پتھر کے دور کی تصویر پیش کررہا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد ہارون کی پوزیشن کافی بہترہے اور وارڈ نمبر نو کے لوگ بھی علاقائی ترقی کیلئے پی ٹی آئی کے امیدوار کو کامیاب بنائینگے۔

اگربات کی جائے وارڈنمبر دس کی تو اس وارڈ میں مسلم لیگی امیدوار نبیل اشرف تنولی کو پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اعجازجدون کے مقابلے میں کافی برتری حاصل ہے۔ سال 2015ء کے الیکشن میں اعجاز خان جدون نے حصہ لینے کا اعلان کیاتھا۔ تاہم اپنے مدمقابل فیصل شاہ ایڈوکیٹ کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے انہوں نے الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔ موجودہ الیکشن میں بھی اعجازخان جدون پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اکتفاء کئے ہوئے ہیں کہ شاید پی ٹی آئی کا ٹکٹ انہیں جتوادے۔ جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ(ن) کے امیدوار نبیل اشرف تنولی کو سابق ممبر کینٹ بورڈ فیصل شاہ ایڈوکیٹ کے علاوہ تمام برادریوں کی حمایت کے علاوہ جے یو آئی، آلائی کے لوگوں کے علاوہ تمام اہم شخصیات کی حمایت حاصل ہے اور یہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ وارڈ نمبر دس کا الیکشن مسلم لیگی امیدوار نبیل اشرف تنولی بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔

اگربات کی جائے تمام وارڈ میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کی تو تمام وارڈز میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کی پوزیشن انتہائی کمزور ہے اور جماعت اسلامی دس وارڈز میں سے کسی ایک کا بھی الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!