ہمارا فیس بک پیج

پشاور ڈی آئی خان موٹروے، چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال، سوات موٹروے فیز ٹوکے منصوبے جے سی سی میں شامل۔

مانسہرہ:وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سی پیک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی)کے اجلاس میں صوبے کے چھ بڑے منصوبے سی پیک میں شامل کروائے گئے جن میں پشاور ڈی آئی خان موٹروے، چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال، سوات موٹروے فیز ٹوکے علاوہ پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔ جس کیلئے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ گزشتہ وفاقی حکومت کے دور میں صوبے کے اتنے زیادہ منصوبے کبھی سی پیک میں شامل نہیں کئے گئے کیونکہ وفاق میں ہماری حکومت نہیں تھی اور گزشتہ وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ نارواسلوک روارکھا تھا۔

سوات موٹروے فیز ٹو منصوبے کے حوالے سے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اُنہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی دوسرے منصوبے کے فنڈز سوات موٹروے کو منتقل نہیں کئے گئے ہیں اور سی پیک کے کسی بھی منصوبے کے فنڈز کسی دوسرے منصوبے کو منتقل ہو ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چکدرہ چترال سڑک منصوبے کے فنڈز کی سوات موٹروے فیز ٹو کو منتقل کرنے کی باتیں بے بنیاد، حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہیں۔

وہ منگل کے روز سی پیک منصوبے کے تحت ہزارہ موٹروے کے حویلیاں – تھاکوٹ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ حویلیاں – تھاکوٹ موٹروے کا یہ منصوبہ 133 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا جس کی کل لمبائی 118 کلومیٹر ہے۔ یہ موٹروے حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ، شنکیاری اور تھاکوٹ کو آپس میں ملاتی ہے۔

اس موٹروے کو علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ یہ منصوبہ پورے علاقے کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے علاقے میں سیاحتی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور لوگوں کو آمدورفت کی معیاری سہولیات دستیاب ہو نگی۔ انہوں نے کہا کہ حویلیاں -تھاکوٹ موٹروے کی بروقت تکمیل کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مراد سعید کو جاتا ہے جن کی ذاتی دلچسپی سے اس منصوبے کی بروقت تکمیل ممکن ہوئی ہے۔ ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کو سیاحت کے اہم علاقے قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر حال میں ان علاقوں میں ٹوارزم انفراسٹرکچر کو ترقی دے کر لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔ اس سلسلے میں ملاکنڈ ڈویژن کے سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان بنانے کے لئے رشکئی سے چکدرہ تک موٹروے کا منصوبہ مکمل کر لیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں چکدرہ سے سوات تک موٹروے تعمیر کیا جائے گا۔

سی آر بی سی لفٹ کینال منصوبے کو صوبے کی زرعی خود کفالت کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی زیر کاشت آجائے گی اور صوبہ زرعی اجناس میں خود کفیل ہو جائے گا۔ محمود خان نے کہا کہ ماضی میں صوبے میں جتنے بھی وزرائے اعلی گزرے ہیں، انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں صرف اپنے آبائی حلقوں کو نوازا ہے جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں صوبے کے تمام علاقوں میں یکساں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں ان کے دور میں ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی علاقے کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہیں ہوگی اور ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے تمام علاقوں کو یکساں ترقی دی جائے گی۔ اپوزیشن کی بلا جواز تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا جن لوگوں نے اسلام کے نام پر پانچ سال صوبے میں حکومت کی انہوں نے صوبے کی ترقی کے لئے کچھ کیا اور نہ ہی اسلام کے لئے بلکہ صرف اپنی جیبیں بھریں اور یہی وجہ ہے کہ آج صوبائی اسمبلی میں ان لوگوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہی لوگ ہم پر بلا جواز تنقید کر رہے ہیں۔

محمود خان نے اپوزیشن کو مخاطب کر کے کہا کہ گذشتہ وفاقی حکومت کے دور میں صوبے میں تین ائیر پورٹ بنانے کے بڑے اعلانات کئے گئے تھے لیکن آج صوبے میں وہ ائیر پورٹ کہیں بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعلی نے تختی کی نقاب کشائی کرکے حویلیاں -تھاکوٹ موٹروے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندوں اور عمائدین علاقہ کے علاوہ نیشنل ہائی اتھارٹی، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!