لڑکیوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر رقم ہتھیانے والے گروہ کا سرغنہ پولیس گرفتار۔

ہری پور:پولیس وردی میں چھپے بھیڑیے بے نقاب مجبور بے سہارا لڑکیوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر رقم ہتھیانے والے گروہ کا سرغنہ مثالی پولیس کا اہلکار جنسی زیادتی کرنے پر گرفتار کرلیا گیا جنسی زیادتی کا نشانہ بنا نے کے ساتھ زیبا ویڈیو بنا کر ایک سال سے بلیک میل کر کے رقم بھی لیتا رہا ہے کسی کو بتانے پر قتل اور اغواء کی دھمکیاں بھی دیتا رہا لڑکی کی میڈیکل رپورٹ میں تصدیق سامنے آنے کے بعد پو لیس نے پیٹی بند بھائی کے سمیت گروہ کے دیگر افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتار کرلیا ہے مذکورہ پولیس اہلکار عاقب ریاض کے خلاف پہلے بھی جنسی حراساں کی متعدد شکایات سامنے آچکی تھیں۔

اس مرتبہ اعلی پولیس حکام کے نوٹس میں بات آنے کے بعد پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری عمل میں لائی گی شہریوں نے گروہ میں شامل دیگر بد نام زمانہ پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے زرائع کے مطابق نواحی علاقہ کوٹ نجیب اللہ کی رہائشی تیس سالہ شادی شدہ لڑکی عابدہ بی بی نے پولیس کو رپورٹ درج کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حطار پولیس اسٹیشن میں تعینات عاقب ریاض نے وردی کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے زبردستی جنسی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بنا کر مجھے ایک عرصہ سے بلیک میل کر رہا ہے اور بھاری رقم بھی ہتھیا چکا ہے گروہ میں ایک خاتون سمیت دیگر تین افراد بھی شامل ہیں پولیس اہلکار مجھے قتل اور اغواء کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔

جس پر پولیس نے لڑکی کا میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد پولیس اہلکار عاقب ریاض کے خلاف کوٹ نجیب اللہ پولیس اسٹیشن میں زیر دفعہ354/A/376/506/342/355/24A/292ٹیلی گرافٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتا رکرلیا ہے پولیس زرائع نے بتایا ہے کہ گروہ میں ایک خاتون شمیم بی بی سمیت دیگر دو نامعلوم افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے جن کی گرفتاری کے لیے کوشش جاری ہے۔

زرائع نے بتایا ہے کہ لڑکی ایل ایچ وی نرس ہے جس کو پولیس اہلکار نے وردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر بلا کر متعدد زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے رابطہ کرنے پر ایس ایچ او سعید یدون نے بتایا ہے کہ گرفتار پولیس اہلکار سپیشل فورس پولیس کا ملازم ہے جوکہ ایک عرصہ سے علاقہ حطار پولیس اسٹیشن میں ڈیوٹی پر تعینات تھا ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے مدعی مقدمہ خاتون عابدہ بی بی سے رابطہ کرنے پر خاتون نے بتایا ہے کہ ملزم کو پولیس نے وی آئی پی پروٹوکول میں رکھا ہو اہے اس کو بچانے کے لیے مجھ پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے ملزم اب تک مجھ سے دس لاکھ روپے ہتھیا چکا ہے ہیں اس ضمن میں باو ثوق زرائع نے تصدیق کی ہے کہ محکمہ پولیس میں پولیس اہلکاروں نے مختلف پوش علاقوں میں کرایہ پر رہائشی کمرے لے رکھے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کو لے جاکر زبردستی جنسی زیادتی کے ساتھ ان کی ویڈیو بنا کر ان سے رقم لینے کے ساتھ بلیک میل کیا جا تا ہے۔

سٹی پولیس اسٹیشن کے قریب دو سال قبل پولیس کے متعدد نجی تارچر سیلوں کا انکشاف سامنے آنے کے بعد ڈی پی او کی مداخلت احکامات پر پولیس سے رہائش گاہیں خالی کروا کر کمرے کرایہ پر لے کر رہائش اختیا رکرنے پر پابندی عائد کر دی گی تھی ادھر شہریوں نے گروہ میں شامل دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جو حواء کی بیٹیوں کی عزت تار تار کرنے کے ساتھ نیلام کررہے ہیں۔

Facebook Comments