ایبٹ آباد میں کورونا وباء کا بے ہنگم پھیلاؤ۔لمحہ فکریہ۔

تحریر:حمد اللہ

کورونا واہرس کے وار جاری ایبٹ اباد میں سمارٹ لاک ڈاون بھی فرضی کورونا واہرس سے متاثرو مریضوں کی تعداد 8سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ہسپتالوں میں جگہ کم پڑگئی ہے۔ بازاروں میں رش بد ستور قاہم ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایبٹ آباد کے چھ مقامات جن میں کہیال نتھیاگلی نڑیاں جھنگی قلندر آباد پی ایم اے روڈ شامل ہے اس دوران وہاں پہ پولیس بھی تعینات کی گی ہے مگر فرضی لاک ڈاون ہوا ہے جبکہ دوسری جانب بازاروں میں رش بد ستور قائم ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت کی بھی حکومتی ایس او پی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔جس سے کورونا واہرس تیزی سے پھیل رھا ہے ضلعی انتظامیہ اور صوباہی حکومت کی ہدایت کے باوجود خلاف ورزیاں پر کارواہی نہیں ہو رہی ہے دوسری جانب ضلع ایبٹ آباد میں چھوٹے ہوٹل اور بلخصوص سیاحتی مقامات جن میں گلیات ٹھنڈیانی اور ہرنو اور دیگر علاقہ شامل ہیں وہاں پر تاحال کاروبار بند پڑے ہیں جس پر ہوٹل ملکان سرادر سہیل اور غضنفر علی عباسی نے پریس کا نفرنس میں کہا کے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں سال میں صرف دو مہینے کاروبار ہو رھا ہے اور سیاحتی مقامات بند پڑے ہیں بھاری کرایہ بجلی اور گیس کے ادا کر رھے ہیں گھروں میں فاقہ ہیں وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کے باوجود سیاحتی مقامات نہیں کھولے گے ہیں حکومت بتاے اس سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد کہا جاہیں اور کس سے انصاف طلب کریں اب تنگ آچکہ ہیں اور صوباہی حکومت سے مطالبعہ کرتے ہیں کے وہ نوٹس لے اور ساتھ ہی سیاحتی مقامات کو کھولے ورنہ احتجاج پر مجبور ہونگے حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی دوسری جانب کورونا واہرس سے اموات کی تعداد بھی 34ہو گی ہے

دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد زندگی کے ضابطے اور دنیا داری کے طریقے تبدیل ہو گئے ہیں۔ مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر روز مرہ کے امو جہاں چلنے پھرنے، سانس لینے، بازار جانے، کام کے لیے دفاتر، عبادت کے لیے مساجد جانا محال ہو گا۔ تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہو جائیں گے اور بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوں گے۔ ہر کام کے لیے نئے اور حیران کن وضع کردہ رہنما اصولوں پر زندگی گزارنا پڑے گی۔لوگوں سے سماجی دوری اختیار کرنے کا کہا جائے گا، ماسک پہننے اور ہر وقت ہاتھ دھونے کی تلقین کی جائے گی۔ دکانوں کے باہر دائرے بنا دیے جائیں گے جہاں لوگ اپنی باری کا انتظار کریں گے یا لوگ دکان کے باہر کھڑے ہو کر سودا خریدیں گے۔ ہسپتالوں میں جانے سے خوف آئے گا۔ یہ سب کچھ اب ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ کب تک جاری رہے گا کچھ معلوم نہیں لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے نئے اصول ضرور مرتب کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام رواں برس فروری میں ہی شروع کر دیا گیا تھا جب ہمسایہ ممالک سے ملنے والی سرحدوں اور تمام ایئر پورٹس پر احتیاطی تدابیر کے علاوہ ایسے ضابطے اور طریقہ کار وضع کیے گئے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔
یہ ایس او پیز کیا ہیں؟
پاکستان میں جب سے کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں تب سے ایس او پیز کی گردان روزانہ میڈیا اور روز مرہ زندگی میں سنی جا رہی ہے۔ یہ ایس او پیز سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کا مخفف ہے اور عام الفاظ میں اس کا مطلب ایک معیار کے مطابق کام کرنے کا ضابطہ کار ہے۔
ان ایس او پیز کا مطلب بنیادی طور پر ایسے اقدامات یا ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہے جس پر عمل کر کے اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔ یہ ایس او پیز قومی ادارہ صحت نے دیگر محکموں اور اداروں کی مدد سے تیار کیے ہیں اور انھیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے طور پر جاری کیا ہے۔ قومی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق اب تک دو درجن کے قریب ایسے ایس او پیز جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان ایس او پیز یا رہنما اصولوں میں کورونا وائرس کے بارے میں نئے اور حیران کن انکشافات سامنے آنے کے بعد ترامیم کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں ملک میں سیاحت کے شعبے کو دوبارہ کھولنے کا عندیہ دیا تھااور اس سلسلے میں 12 رکنی ‘ٹورازم ریکوری ایکشن کمیٹی’ نے متعلقہ افراد اور شعبوں کے تعاون سے قواعد و ضوابط اور احتیاطی تدابیر پر مبنی ایک جامع مسودہ تیار کر لیا تھا
اس مسودے میں ہوٹلوں، ریسٹ ہاؤسز، ریستورانوں، کھانے پینے کی جگہوں، ٹور آپریٹرز، فضائی کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور کرائے کی گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک افراد اور اداروں کے لیے قواعد و ضوابط کا تعین کیا گیا ہے۔

سیاحوں کی رہائش گاہوں پر انتظامات کے قواعد

مسودے کے مطابق سیاحوں کی رہائش گاہوں، جیسا کہ ہوٹلز اور ریسٹ ہاؤسز، کے داخلی دروازوں پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی کووِڈ 19 کے حوالے ٹریننگ مالکان کی ذمہ داری ہو گی۔

ان رہائش گاہوں میں آنے والے تمام سیاحوں کا جسمانی درجہ حرارت داخلی دروازوں پر چیک کیا جائے گا اور جس سیاح کا درجہ حرارت 98.6 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ ہو گا انھوں واپس گھر لوٹ جانے یا قریبی مرکز صحت جانے کو کہا جائے گا۔
داخلی دروازوں پر جراثیم کُش واک تھرو گیٹس نصب کیے جائیں گے جبکہ مناسب سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے رہائش گاہوں کے باہر نشانات لگائے جائیں گے۔

وہ سیاح جنھوں نے چہرے پر ماسک نہیں پہنا ہو گا انھیں داخلی دروازے پر ماسک فراہم کیا جائے گا جبکہ ہاتھوں کو سینیٹائز کرنے کے انتظامات موجود ہونا ضروری ہیں۔
سیاحوں کے سامان کو داخلی دروازے سے باہر ڈس انفیکٹ کرنا بھی ضروری ہو گا۔ریسیپشن یعنی استقبالیہ ڈیسک پر تمام سیاحوں کا بنیادی اور طبی ریکارڈ مرتب کرنے کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

ہوٹلز اور ریسٹ ہاؤسز انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ تمام سیاح جو ایسے ممالک سے تشریف لائیں گے جہاں وبا کا زور زیادہ ہے ان کا تمام تر ریکارڈ پہلے ہی ترتیب دیا جانا ضروری ہو گا اور ہوٹل میں چیک اِن سے متعلقہ رسمی کارروائی آن لائن مکمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت ہوٹل میں آنے والے تمام سیاحوں کو حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے حوالے سے ہدایات دی جائیں گی۔

مالکان کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ تمام سیاحوں کو موبائل فونز اور کریڈٹ کارڈز کو ڈس انفیکٹ کرنے کے لیے الکوحل سوائپس فراہم کریں۔

وہ ہوٹل جہاں لفٹس نصب ہیں وہاں ایک وقت میں لفٹ میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد کا تعین کیا جائے گا اور لفٹ کے فرش اور دیواروں کو جراثیم کش محلول سے باقاعدگی سے صاف کیا جائے گا، نیز لفٹس کے اندر ہینڈ سینیٹائزرز نصب کرنا لازمی ہو گا۔

ہر ہوٹل میں مہمانوں کی گنجائش کا صرف 75 فیصد یا اس سے کم حصہ پُر کیا جائے گا اور ہر ایک کمرے میں سیاحوں کو ٹھہرانے کے بعد اگلا کمرہ خالی چھوڑا جائے گا۔

مالکان کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ کمرے کی سطحوں کو باقاعدگی سے صاف کریں اور اس کا ریکارڈ مرتب کریں۔ کمروں کے باہر اور ہوٹل کی راہدایوں میں ہینڈ سینیٹائزز لگانا ضروری ہیں۔ بستروں پر موجود چادریں دو دن میں ایک مرتبہ ہی تبدیل کی جائیں گی اور وہ بھی اگر سیاح ایسا چاہیں گے تو۔


یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!