علی خان جدون اورمشتاق غنی کی کوششیں۔ ایبٹ آباد انٹرچینج کا مسئلہ حل کرلیاگیا۔

ایبٹ آباد:علی خان جدون اورمشتاق غنی کی کوششیں۔ ایبٹ آباد انٹرچینج کا مسئلہ حل کرلیاگیا۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ ایبٹ آباد وہ واحد بدقسمت شہرہے جس سے گزرنے والی شاہراہ ریشم کو پچھلے تیس سالوں سے کسی عوامی نمائندے اور وفاقی حکومت نے کشادہ کرنے کی منصوبہ بندی اور کوشش تک نہیں کی۔ ایبٹ آباد کی آبادی تیس سالوں میں کئی گنابڑھ چکی ہے۔ جبکہ شمالی علاقہ جات، آزاد کشمیر اورہزارہ کے دیگراضلاع کی تمام ٹریفک کا بوجھ یہ اکلوتی سڑک اٹھائے ہوئے ہے۔ ہزارہ کے لوگوں کی خوش قسمتی کہ چائنہ اپنی تجارتی ضروریات کیلئے پاکستان میں سی پیک تعمیر کررہاہے۔ جہاں جہاں سے سی پیک گزر رہاہے وہاں کے شہریوں کی سفری مشکلات ختم ہورہی ہیں۔ ہری پور میں سی پیک پر پانچ انٹرچینج بنائے گئے ہیں۔ لیکن ایک مرتبہ پھر ایبٹ آباد کے عوامی نمائندوں کی وجہ سے ایبٹ آباد شہر کو سی پیک کی انٹرچینج سے بھی محروم کردیاگیا۔

پہلے یہ کہاگیاکہ سپلائی سے شملہ پہاڑی انٹرچینج کو لنک کیاجائے گا۔ لیکن یہ دعوے بھی جھوٹ ثابت ہوئے۔ کیونکہ شملہ پہاڑی انٹرچینج کیلئے چائنیز حکومت نے گیارہ ارب روپے کا تخمینہ لگا کر حکومت کو دیاتھا۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہاتھاکہ شاہراہ ریشم کشادہ کرلیں یا انٹرچینج بنالیں۔ صرف ایک چیز کیلئے ہی فنڈز مل سکیں گے۔ جس پر ایم این اے علی خان جدون نے شاہراہ ریشم کی کشادگی کو اہم قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے شاہراہ ریشم کی کشادگی کیلئے فنڈز دینے کا مطالبہ کیاجوکہ منظور کرلیاگیا۔ اس سارے عمل میں ایبٹ آباد کے شہری انٹرچینج سے محروم ہی رہے۔

ABBOTTABAD: Jun07 – Tourists Stuck in a massive traffic Jam during Eid Ul Fittar holidays on KKH in Abbottabad. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

تاہم ایم این اے علی خان جدون اور سپیکرخیبرپختونخواہ اسمبلی مشتاق غنی کی کوششوں سے اس کا حل بھی نکال لیاگیا۔ اسی سلسلے میں ایبٹ آباد کے لئے سی پیک (مو ٹر وے)سے سبزی منڈی اور فوڈ گو دام تک 1.2کلو میٹر لمبا انٹر چینج تعمیر کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ انٹر چینج کے مجوزہ مقام اور ڈیزائن کی با قا عدہ منظوری کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کے زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس کے دوران مجوزہ انٹر چینج کے ڈیزائن اور تخمینہ لا گت پر مبنی دستاویزی رپورٹ پیش کی گئی۔جو کمشنر ہزارہ کی ہدایت پر چا ئینز انجینئرز،این ایچ اے، پی کے ایچ اے، سی اینڈ ڈبلیو اور ریو نیو کے محکموں نے مشترکہ طور پر تیار کی۔ مجوزہ انٹر چینج کی تعمیر سے کو ئی مقامی آبادی یانجی تعمیرات متاثر نہیں ہوں گی کیو نکہ مجوزہ ڈیزائن میں ایک پل بھی شامل ہے جو وسیع بر ساتی نالے پر تعمیر کیا جائے گا۔

Facebook Comments