مرغ فروشوں اور قصابوں کی دوکانوں کے قریب کھانے پینے کی دوکانوں سے خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں۔

ایبٹ آباد(وائس آف ہزارہ)ایبٹ آباد کے مختلف بازاروں میں مرغی فروشوں اور قصائیوں کی دکانیں ایسی جگہ واقع ہیں۔جہاں ان کے ساتھ باالکل قریب سبزی، پھل، بیکری اور مٹھائی کی دکانیں بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے جو چیزیں ہم بغیر اُبالے یعنی بغیر پکائے کھاتے ہیں انہیں مرغیوں اور گوشت کے دکانوں کے قریب رکھنے سے زونوٹیک بیماریاں لگتی ہیں۔

ایبٹ آباد میں اکثر مرغیوں اور قصائیوں کی دکانیں ایسی جگہوں میں واقع ہیں۔جہاں ان کے ساتھ متصل سبزی، پھل، بیکری، مٹھائی وغیرہ کی دکانیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ سلاد، پھل اور بیکری وغیرہ لوگ بغیر پکائے کھاتے ہیں۔ طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قصائیوں اور مرغیوں کے دکانوں کے قریب اگر یہ چیزیں پڑی ہو تو ان سے زونوٹک ڈیزیز یعنی بیماریاں لگتی ہیں۔ ڈاکٹر ریاض نے اس فیلڈ میں ایم فل کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ زونوٹک ڈیزیز وہ بیماریاں ہیں جو جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے جانوروں کو لگتی ہیں ان بیماریوں کی تعداد 360 سے زیادہ ہیں۔

چند سال پہلے ریلیف انٹرنیشنل نامی ایک ادارے نے اس پر باقاعدہ ضلعی انتظامیہ، قصائی، مرغ فروش اور سول سوسائٹی کے اراکین کو تربیت بھی دی تھی۔ اس میں لوگوں کو خبردارکیا گیا تھا کہ جو چیزں بغیر اُبالے ہوئے یعنی پکانے کے بغیر ہم کھاتے ہیں۔ انہیں مرغیوں اور گوشت کے قریب نہیں رکھنا چاہئے ورنہ زونوٹک بیماریاں لگنے کا خطرہ ہے۔

ڈاکٹروں نے تجویز پیش کی کہ احتیاط کے طور پر مرغیوں اور قصائیوں کی دکانیں الگ مارکیٹ میں یا پھل اور بیکری کی دکانوں سے دور قائم کیا جائے۔تاکہ لوگوں کی جانوں کو ان بیماریوں سے خطرہ نہ ہو۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ملک میں عوام کی جان اور صحت کی حفاظت کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ہیں اور شہر ناپرسان کی طرح جس کا جو جی چاہے وہ کرتا رہتا ہے اور جو مرضی ہو وہ بیچتا ہے۔بس مقصد صرف پیسہ بٹورنا ہوتا ہے نہ کہ انسانوں کی صحت کا حیال رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!