16

ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ایمرجنسی عوام کے لیے وبالِ جان بن گئی۔

ایبٹ آباد:وزیراعظم پاکستان عمران خان کا صحت انصاف کا نعرہ مذاق بن گیا۔ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ایمرجنسی عوام کے لیے وبالِ جان بن گئی ایم ایس ہسپتال سمیت ڈاکٹر غائب تشویشناک حالت میں لائے گئے مریض ر لنے لگے۔تاجر برادری سمیت عوامی حلقے سراپا احتجاج،ذرائع کے مطابق گزشتہ صدر انجمن تاجران مال روڈ گامی اڈا سجاد جدون اپنے جنرل سکٹریری افتخار شاہ کو دل کی تکلیف کے باعث تشویشناک حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے کر گئے جہاں ڈاکٹر موجود نہ تھا جس پر تاجر برادری نے ڈاکٹر کے آنے کا انتظار شروع کر دیا مگر 20 منٹ گزرنے کے بعد بھی کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی میں نہ آیا اِسی دوران تاجر برادری نے میڈیا کے نمائندوں کو موقع پر بولا لیا اور ڈاکٹر کے خلاف احتجاج شروع کر دیا میڈیا کی جانب سے ایم ایس ہسپتال ڈاکٹر عقیل بنگش سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ایم ایس نے فون تک ا ±ٹھانہ گوارہ نہ کیا جس پر ہسپتال میں موجود ایک میڈیکل ٹیکنیشن نے دل کی تکلیف میں مبتلا مال روڈ کے جنرل سکرٹری افتخار شاہ کو ای سی جی کے لیے بھج دیا گیا۔

جہاں ای سی جی ہونے کے بعد ای سی جی کی رپورٹ چیک اپ کروانے کے لیے ایمرجنسی کے کمرے میں لایا گیا تو اس وقت بھی کوئی ڈاکٹر موقع پر کو ڈاکٹر موجود نہیں تھا اللہ اللہ کر کے ایک گھنٹے بعد ڈی ایم ایس ہسپتال ڈاکٹر عامر موقع پر پہنچ آئے اور مریض کی ای سی جی رپورٹ چیک کر کے مریض کو آئی سی یو وارڈ میں شفٹ کر دیا جب ڈی ایم ایس ڈاکٹر عامر کو ساری بات سے آگاہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میں جنرل ڈیوٹی پر ڈاکٹر امتیاز شاہ موجود تھے جو تھانہ سٹی کی حدود میں ایک قبر کشائی پر گئے ہوئے ہیں لیکن ان کی جگہ لیڈی ڈاکٹر عمارہ کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی جس پر ڈی ایم ایس کی جانب سے ڈاکٹر عمارہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں جھوٹ کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں ایک میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے وارڈ میں آئی ہوئی ہوں ڈی ایم ڈاکٹر عامر میڈیا کے نمائندوں اور تاجروں کو اپنے دفتر میں لے گئے جہاں صدر گامی اڈہ مال روڈ سجاد جدون نے بتایا کہ ایک گھنٹے سے ہمارے سمیت درجنوں مریض ایمرجنسی میں چیک اپ کے لیے آئے مگر کوئی ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑھا یہ بات سنتے ہی ڈی ایم ایس ڈاکٹر عامر نے اپنی ڈاکٹر کے حق میں صفائیاں پیش کرنا شروع کر دی جس کی وجہ سے سجاد جدون اور ڈی ایم ایس کے دومیان تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا ڈی ایم ایس ڈاکٹر عامر نے میڈیا کو بھی اپنا موقف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایم ایس سے ہی موقف لی میری کوئی ذمہ داری نہیں شہریوں نے صوبائی حکومت سے فوری نوٹس لینے اور ڈی ایم ایس ڈاکٹر عامر کے تبادلے کا مطالبہ کردیا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں