سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری۔ڈاکٹرمافیانے ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسزبندکرنے کی دھمکی دیدی۔

ایبٹ آباد:سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری۔ڈاکٹرمافیانے ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسزبندکرنے کی دھمکی دیدی۔ ایبٹ آباد میں ڈاکٹروں کا احتجاجی مظاہرہ۔سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے فیصلہ کے خلاف ایبٹ آباد میں سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی،ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس،نرسز اور عملہ سڑکوں پر نکل آئے،ایوب میڈیکل کمپلیکس اور ڈسٹرکٹ ہسپتال کا مشترکہ احتجاجی مظاہرہ اور ریلیاں، مریضوں سے مکمل بائیکاٹ،حکومت سے گرفتار ڈاکٹرز کی رہائی،ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر صحت کو بھی عہدے سے فارغ کرنے اور ایمرجنسی سروسز بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ جمعرات کے روز گرینڈ ہیلتھ الائنس،پیرا میڈیکس،نرسسز،کلاس فور یونین،ٹیکنکل سٹاف حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے فیصلہ کی قانون سازی پر سیکنڑوں کی تعداد میں شریک افراد کا احتجاجی مظاہرہ اور ریلیاں نکالیں گئیں،اس موقع پر مسلم لیگ،جماعت اسلامی،ہزارہ قومی محاذ اور دیگر سول سوسائٹی کے سرکردہ افراد کے ہمراہ ختم نبوت چوک سے پریس کلب جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سے لنک روڈ فوارہ چوک سے ہوتی ہوئی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی،بعد ازاں پریس کلب میں ہجوم پریس کانفرنس میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چئیرمین ڈاکٹر عبدالماجد کا کہنا تھا صوبائی حکومت نے ڈی ایچ اے اور آئی ایچ اے کا بل پیش کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا اصلاحات کے مخالف نہیں لیکن موجودہ بل عوام اور ملازمین کے حق میں بہتر نہیں،موجودہ ایکٹ کے نفاظ سے آپریشن،ٹیسٹوں،ایم آر آئی،سی ٹی سکین کے ریٹ بڑھائے جائیں گے جس کا براہ راست بوجھ غریب عوام پر پڑے گا،ہسپتالوں کو خودمختاری دیکر بورڈ کے تحت صرف مختص بجٹ دیا جائے گا اور اخراجات،تنخواہیں مقامی سطح پر پوری کی جائیں گی جو صرف غریب عوام کے جیب سے پوری ہونگی،

اس موقع پر نرسنگ ضلع ایبٹ آباد کی صدر فرحت ناز،پیرا میڈیکس کمپلیکس کے صدر حبیب شاہ،ڈی ایچ کیو کے صدر ہدایت اللہ شاہ،کلریکل کے صدر کامران خان،کلاس فور یونین کے جنرل سیکرٹری عابد خان،محمد معروف خان، مسلم لیگ ن کے رہنمائسردار عبدالرشید،سابق امیدوار صوبائی اسمبلی وسیم خان جدون،کے علاوہ دیگر چیدہ چیدہ افراد شریک تھے،گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چئیرمین ڈاکٹر عبدالماجد کا کہنا تھا نوشیروان برکی صوبہ میں ساری افراتفری کا زمہ دار ہے جس کے آگے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختون خواہ ٹس سے مس نہیں ہورہے انہوں نے کہا کہ اداروں کی بقا کی جنگ ہے جس میں محکمہ صحت کے ملازمین کو بے چینی کا شکار کر کے احتجاج پر مجبور کیا گیا جبکہ اس حوالہ سے 4 ماہ قبل وزیر اعلی کے ساتھ ملاقات میں تین نکات پیش کئے تھے جن پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرانے کے بعد بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی،انہوں نے کہا کہ سلسلہ برقرار رہا تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھانا پڑے گا،اس موقع پر سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن،جماعت اسلامی،ہزارہ قومی محاذ، پیپلز پارٹی کے رہنماوں وسیم خان جدون،عبدالرزاق عباسی،سردار عبدالرشید کا کہنا تھا تحریک انصاف کی حکومت نے متنازعہ قانون کے ذریعے غریب عوام سے صحت کی سہولیات چھیننے کی کوشش کی اور مختلف ذرائع سے اپنے گلے کا طوق ڈاکٹرز کے سر پھینک کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور وزیر اعظم کے رشتہ دار کو خوش کرنے کے لئے نظام کا بیڑا غرق کر کے 10 روز سے صوبہ بھر کے عوام کو سولی پہ لٹکایا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ منتخب ممبران اسمبلی عوام کا دفاع نہیں کر سکتے تو چوڑیاں پہن لیں،کس قانون کے تحت احتجاج کرنے والوں پر دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہم حکومت کے اس غیر جمہوری اور غیر اخلاقی بل کی مذمت کرتے ہیں۔قبل ازیں احتجاجی مظاہرہ میں صوبائی حکومت اور نوشیروان برکی کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی اور مطالبات کو جلد پورا کرنے پر زور دیا،واضح رہے کہ صوبہ بھر کی طرح ایبٹ آباد میں ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف ہڑتال نویں روز میں داخل ہوچکی ہے ایوب میڈیکل کمپلیکس اور ڈسٹرکٹ ہسپتال کی او پی ڈی کو تالے لگے ہوئے ہیں اور ہسپتالوں کے ایمپلائز ڈاکٹرز نے اپنے پرائیوٹ کلینک بھی بند کر رکھے ہیں جس سے روازنہ تقریبا او پی ڈی آنے والے 15 ہزار سے زائد مریض بچے،خواتین،بزرگ متاثر ہورہے ہیں اور ہسپتالوں میں داخل مریض بھی بے یارو مدگار پڑھے ہوئے ہیں،یوں ہی حکومت کی ہٹ دھرمی کا سلسلہ برقرار رہا تو امیر جنسی سروسز بند ہونے سے ہزارہ اور صوبہ بھر میں افراتفری کا منظر پیش ہوگا۔

Facebook Comments