ہمارا فیس بک پیج

اے ایس آئی جاوید سمیت چار اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج۔

ایبٹ آباد:نتھیاگلی پولیس چوکی تشدد کیس ڈی آئی جی ہزارہ کے نوٹس کے بعد ایس پی ہیڈ کوارٹر اویس شفیق کی زیر نگرانی تین روزہ انکوائری مکمل پولیس اہلکاروں پر غلطی ثابت ہونے کے بعد اے ایس آئی جاوید سمیت چار اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج،اس ضمن میں ذرائع نے بتایا تھا ملاچھ کے رہائشی ڈرائیور فاروق نے بتایا کہ وہ سواری کی غرض سے نتھیا گلی بازار میں کھڑا تھا اسی دوران تھانہ ڈونگاگلی کی شوقین تھی گلی میں تعینات اے ایس آئی جاوید اور دیگر اہلکار میرے پاس آئے جس پر اے ایس آئی جاوید میں مجھے کہا کہ تم منشیات فروخت کرتے ہو جس پر میں نے کہا کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کرتا اسی دوران آئی ایس آئی جاوید میں اپنے ساتھ موجود اہلکاروں کو کہا کہ اس کی تلاشی لو مگر دوران تلاشی بھی مجھ سے کچھ چیز برآمد نہیں ہوئی جس پر اے ایس آئی جاوید اور دیگر ساتھیوں نے مجھے اپنی پولیس موبائل میں بٹھایا اور اپنے ساتھ تھانے لے گئے اور وہاں لے جاکر مجھے چارپائی کے ساتھ باندھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا میری حالت غیر ہونے پر مجھے تھانے کے باہر سڑک پر پھینک دیا۔

جس پر مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت مجھے ہسپتال لے کر گئے میری حالت بہتر ہونے پر میں نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان ویڈیو میں بیان کر کے میڈیا کے نمائندوں کے حوالے کردیا جس کے بعد میری ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور تو ڈی آئی جی ہزارہ حرکت میں آئے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اے ایس آئی سمیت 4 اہلکار کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا اور ایس پی ہیڈ کوارٹر اویس شفیق کو تین روز کے اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کیں جس پر ایس پی ہیڈ کوارٹر اویس شفیق کی جانب سے تین روزہ انکوائری مکمل کرکے واقعہ میں ملوث اے ایس آئی جاوید سمیت چاروں پولیس اہلکاروں حنیف،قیصر زیب، دانش، کے خلاف پولیس ایکٹ زیر دفعہ 118 119 کے تحت ایف آئی آر درج کرلی ڈی آئی جی ہزارہ اور ایس پی ہیڈ کوارٹر اویس شفیق کی جانب سے صاف اور شفاف انکوائری کرکے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے پر عوامی حلقوں نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے افسران اگر پولیس فورس میں ہونگے تو پولیس فورس صرف عوام کی خدمت کرے گی نہ کہ عوام کو پریشان۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!