تاریخ کا مشکل ترین آلائی لفٹ آپریشن مکمل:وزیراعظم کا تمام غیر معیاری مقامی چیئر لفٹس بند کرنیکا حکم۔

بٹگرام کی تحصیل الائی میں صبح 7 بجے کیبل ٹوٹنے سے چیئر لفٹ 600 فٹ بلندی پر معلق ہوگئی 7 بچے ایک استاد پھنس گئے۔
سولہ گھنٹے آپریشن پاک فوج کے کمانڈوز نے 2 بچوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر اور دیگر کو چھوٹی ڈولی کی مدد سے بحفاظت نکال لیا آپریشن رات گئے تک جاری رہا۔
بٹگرام (وائس آف ہزارہ) ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی کے علاقے پاشتو میں چیئر لفٹ میں پھنے تمام 8 افراد کو 16 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد پاک فوج کے کمانڈوز نے بحفاظت نکال لیا آپریشن میں 4 ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا 2 بچوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر سلنگ آپریشن سے کمانڈوز نے رسی کی مدد سے نیچے اتر کر نکالا جبکہ دیگر 6 افراد جن میں 5 بچے اور ایک استاد شامل تھا انہیں چھوٹی ڈولی کی مدد سے جائے حادثہ تک پہنچ کر ایک ایک کر کے نکال کر حفاظتی مقام تک پہنچا دیا گیا رات کے اندھیرے کے باعث پہیلی کا پٹر آپریشن روک دیا گیا تھا اور چار پائی کی مدد سے بنائی جانے والی چھوٹی ڈولی کے ذریعے آپریشن جاری رکھا گیا اس سے قبل منگل کی صبح 7 بجے کے قریب سکول جانے والے بچے چیئر لفٹ میں پھنس گئے تھے۔ ان 8 افراد کو بچانے کیلئے ریسکیو آپریشن میں ایس ایس جی کی سلنگ ٹیم، پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کا پر شریک رہی۔ علاقے میں تیز ہوا کی وجہ سے آپریشن کافی مشکل ہوا، گزرتے وقت کے ساتھ کم روشنی بھی مشکلات بڑھتی گئیں۔ جی اوسی ایس ایس جی ریسکیو آپریشن کی نگرانی کیلئے جائے حادثہ پر پہنچے۔ جی اوسی، ایس ایس جی آرمی ریسکیو آپریشن کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے۔ عینی شاہد کے مطابق ہیلی کاپٹر کی مدد سے 2 بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ روشنی انتہائی کم ہونے کے باوجود دیگر افراد کو نکالنے کیلئے گراؤنڈ آپریشن جاری رہا۔ ریسکیو آپریشن میں انتہائی احتیاط برتی گئی، گلگت بلتستان سے چیئر لفٹ کے ماہرین بلائے گئے۔ رات ہوتے ہی ہیلی کاپٹر آپریشن روک دیا گیا ہے، دیگر افراد کو نکالنے کیلئے زمینی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ چھوٹی ڈولی سے کھانے پینے کی اشیاء بھیجی گئیں، اسی ڈولی میں ایک ایک کر کے انتہائی احتیاط کے ساتھ بچوں کو ریسکیو کیا گیا۔ پاک فوج ریکسیو آپریشن کے لیے شمالی علاقہ جات سے لوکل کیبل کراسنگر ایکسپرٹ لے آئی۔ لوکل کیبل کراسنگو ایکسپرٹ کی خدمات بھی بروئے کار لائی گئیں ذرائع کے مطابق چیئر لفٹ کی تین رسیاں ہیں جن میں سے دور سیاں ٹوٹ چکی تھی، مقامی افراد لفٹ کو ایک پہاڑ سے دوسری طرف جانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر سے یہ جگہ 4 گھنٹے دور ہے اور پہاڑی علاقے کی سڑک بھی بہت خراب ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر تحصیل الائی اور ضلعی ہیڈ کوارٹر سے دور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ چیئر لفٹ پہاڑوں کے بیچ برساتی نالہ جہانگیری خوڑ پر نصب ہے۔ چیئر لفٹ میں پچھنے 8 افراد میں ابرار، عرفان، گل فراز، اسامہ، رضوان اللہ، عطا اللہ، نیا محمد اور شیر نواز شامل تھے۔ چیئر لفٹ 600 فٹ سے زائد کی بلندی پر معلق تھی بالآخر رات 11 بجے کے قریب ریسکیو آپریشن مکمل ہوا اور ایک ایک کر کے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔

وزیراعظم کا تمام غیر معیاری مقامی چیئر لفٹس بند کرنیکا حکم۔
چیئر لفٹ آپریشن کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی رات کو میلی آپریشن روکنا پڑا۔
اسلام آباد(وائس آف ہزارہ) نگراں وزیر اعظم انوار الحق کا کرنے خیبر پختونخوا کے علاقے ہنگرام میں پیش آئے واقعے کے بعد خستہ حال، حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والی تمام چیئر لفٹس فوری بند کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس کے علاوہ انوار الحق کا کرنے پہاڑی علاقوں میں موجود ایسی تمام چیئر لفٹس پر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ بٹگرام چیئر لفٹ میں پھنسے ایک بچے کو ریسکیو کرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ ریسکیو آپریشن میں پاکستان آرمی کے 4 ہیلی کا پر حصہ لے رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک بچے کو ریسکیو کرنیکی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آرمی کا ہیلی کاپٹر چیئر لفٹ میں پھنسے ایک بچے کو ریسکیو کر کے لے جا رہا ہے، ایس ایس جی کمانڈو نے ایک بچے کو تھام رکھا ہے۔ اس موقع پر وہاں موجود مقامی لوگوں نے بے اختیار تالیاں بھی بجائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

نیوز ہزارہ

error: Content is protected !!