محکمہ ایری گیشن نے ہرنومیں بااثرشخص کے جھولوں کوبچانے کیلئے کروڑوں کے پشتے تعمیرکردیئے۔

ایبٹ آباد:محکمہ ایری گیشن ایبٹ آباد کی ملی بھگت سے ندی دوڑ میں ہرنو کے مقام پر بااثر شخص کے جھولے بچانے کیلئے زمین کو کٹاؤ سے بچانے کے نام پر سینکڑوں فٹ حفاظتی پشتوں کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کر دیئے گئے ہیں۔ 500 فٹ سے زائد چوڑائی کے حامل ہرنو دریا کو چند فٹ تک محدود کر کے ایک نالہ کی صورت دیدی گئی ہے جس سے ندی دوڑ کا سارا دباؤ دیواروں سے آگے قائم پل پر پڑ رہا ہے اورحالیہ بارشوں کے بعد پل کی دیوار اور پلر بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اگلی بارش سے پل کو ساتھ بہا کر لے جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ایک سروے کے دوران پل کے نیچے بنائے گئے پلر بارش کے بعد خالی ہو گئے ہیں جبکہ ایک طرف کی دیوار کے نیچے بھی بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہیں جس سے پل کو شدید خطرہ لاحق ہیں۔ محکمہ کی حالیہ کارروائی ندی کے کنارے قائم پکنک سپاٹ کو زیادہ سے زیادہ زمین فراہمی کی کوشش ہے حالانکہ ندی کا پاٹ 500 فٹ سے بھی زائد تھا۔ یاد رہے کہ ہرنو کے مقام سے کئی دہائیوں تک ندی کے ساتھ بہہ کر آنے والی بجری نکالی جاتی تھی جس کے ٹھیکہ سے ڈسٹرکٹ کونسل ایبٹ آباد سالانہ کئی ملین روپے آمدن حاصل کرتی تھی مگر اب یہ سلسلہ ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ سینکڑوں سال سے ندی میں بہہ کر آنے والی بجری اور ریت تعمیراتی مقاصد کیلئے استعمال ہوتی تھی جس میں مٹی وغیرہ آنے کا کوئی امکان موجود نہیں اس کے باوجود سرکاری رقوم کے خرد برف کیلئے کرڑوں روپے اس مقصد کے پر خرچ کر دیئے گئے جن کی تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Facebook Comments