ایبٹ آباد یونیورسٹی نے بی اے /بی ایس سی کے انگریزی کے پرچوں کی چیکنگ کے بغیر ہی امیدواروں کو فیل کردیا۔

ایبٹ آباد:ایبٹ آباد یونیورسٹی نے بی اے /بی ایس سی کے انگریزی کے پرچوں کی چیکنگ کے بغیر ہی امیدواروں کو فیل کردیا۔ طلباء و طالبات سراپا احتجاج۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کنٹرولرامتحانات کی والدہ وفات پا گئی تھیں۔جس کی وجہ سے کنٹرولرامتحانات نے انگریزی کے پرچے چیک کرنے کیلئے نہیں بھیجے تھے۔کنٹرولرامتحانات سیف اللہ محسود نے ایک ہفتہ قبل اپنے کسی جاننے والے کے ذریعے عجلت میں بی اے/ بی ایس سی کے انگریزی کے پرچے چیک کروائے۔جس نے ایک ہفتے کے انتہائی مختصر وقت میں پورے ہزارہ کے تمام کالجوں اورپرائیویٹ امیدواروں کے پرچے چیک کرکے کنٹرولرامتحانات کے حوالے کردیئے۔

جس پر بہت سے امیدوار ایبٹ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے پاس پہنچ گئے اور انہیں شکایت کی کہ انگریزی کے پرچوں میں طلباء کو غلط فیل کیاگیاہے۔جبکہ وائس چانسلر کے اپنے ذرائع نے بھی پرچے غیرمتعلقہ افراد سے چیک کرانے کی تصدیق کے بعدکنٹرولر آفس میں چھاپہ مارا اور انگریزی کے تمام پرچے طلب کئے۔جب وائس چانسلر نے پرچوں کی چیکنگ کی تو اس میں کوئی بھی پرچہ چیک نہیں گیا تھا۔ جس پر وائس چانسلر نے کنٹرولر امتحانات سے کہاکہ پرچے تو چیک ہی نہیں ہوئے تو آپ نے رزلٹ کیسے بنا کردے دیا ہے؟

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملات کو چھپانے کیلئے جمعرات کے روز کنٹرولر آفس کو تالے لگائے رکھے۔اس دوران سینکڑوں طلباء اپنی ڈی ایم سیز کے حصول کے لئے کنٹرولر آفس کے باہر جمع رہے۔ کنٹرولر آفس کے اندر بی اے /بی ایس سی کے انگریزی کے پرچوں کی چیکنگ جاری رہی۔ذرائع کے مطابق بی اے/ بی ایس سی کے نتائج میں انگریزی کے پرچوں میں جس امیدوار کے جتنے نمبر لکھے گئے ہیں۔ پرچوں پر بھی اتنے ہی لکھے جارہے ہیں۔ چاہے اس امیدوار نے فل نمبر ہی کیوں نہ حاصل کئے ہوئے ہوں۔ پرچوں میں اتنے نمبر ہی لکھے جارہے ہیں جوکہ رزلٹ میں لکھ دیئے گئے ہیں۔ ایبٹ آباد یونیورسٹی کے امتحانی نظام پر امیدواروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے شفاف انکوائری اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔

Facebook Comments