شرمناک ایس ایم ایس کیس: کالج انتظامیہ انکوائری دباکر بیٹھ گئی۔ لیکچرار کو غلام محمد کو مکمل تحفظ فراہم کیاجانے لگا۔

ایبٹ آباد:شرمناک ایس ایم ایس کیس: کالج انتظامیہ انکوائری دباکر بیٹھ گئی۔ لیکچرار کو غلام محمد کو مکمل تحفظ فراہم کیاجانے لگا۔ طالبات نے پرنسپل سمیت تمام انتظامیہ کی فوری معطلی جبکہ آئی ایس ایف نے احتجاج اور ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کردیا۔ اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر۱ کے ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرارغلام محمد کے بارے میں کالج میں زیرتعلیم بی ایس کی طالبہ نے پرنسپل جمیل اخترکو تحریری شکایت کی کہ موصوف انہیں پچھلے کافی عرصہ سے شرمناک اور نازیبا قسم کے پیغامات بھیج رہاہے۔ لیکچرارغلام محمد اسے کھانوں کی دعوتیں دیتاچلاآرہاہے۔ کبھی نازیبا باتیں پوچھتاہے۔ اوربار بار عثمانیہ ہوٹل میں کھانا کھانے اورملنے کیلئے دباؤ ڈال رہاہے۔ طالبہ کے مطابق میں نے لیکچرار غلام محمد کی کوئی بھی بات نہیں مانی۔ جس کی پاداش میں موصوف نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے میرے نمبر کم کردیئے۔ طالبہ نے لیکچرار غلام محمد کے ایس ایم ایس کے سکرین شارٹ بھی اپنی درخواست کیساتھ لف کئے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر۱ کے پرنسپل جمیل اختر نے طالبہ کی درخواست پر ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ کو انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ تاہم انکوائری رپورٹ سے قبل ہی ایچ او ڈی نے لیکچرار غلام محمد کا مضمون تبدیل کردیا۔

اس حوالے سے تین ہفتے قبل صحافیوں کی ایک ٹیم لیکچرارغلام محمد کا مؤقف لینے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج پہنچی۔ لیکن صحافیوں کو دیکھتے ہی لیکچرارغلام محمد غائب ہوگئے۔ بعدازاں کالج کے پرنسپل کی معرفت سے لیکچرار غلام محمد کو مؤقف دینے کیلئے بلایاگیا۔ لیکن انہوں نے مؤقف یا اپنی صفائی دینے کی بجائے صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ جس کے بعد وائس آف ہزارہ پر لیکچرار غلام محمد کے کالے کرتوتوں کا پردہ چاک کیا گیا تو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء نے احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے لیکچرار غلام محمد کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا۔ جس پر کالج کے پرنسپل جمیل اخترنے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ واضح رہے کہ پہلے بھی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ دوران انکوائری طالبہ پر شدید دباؤ ڈالا گیا۔ جس کی وجہ سے طالبہ نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔

تاہم دوسری انکوائری کمیٹی میں طالبہ کو طلب کیاگیا۔ جس پر طالبہ اوراس کے بھائی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ لیکچرار غلام محمد کو بھی طلب کیاگیا۔ کالج کے پرنسپل نے نوجولائی کو انکوائری رپورٹ پیش کرنے اور لیکچرار غلام محمد کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی تھی۔ تاہم کالج کی انتظامیہ نے انکوائری رپورٹ کو دبا لیا۔ جبکہ لیکچرار غلام محمد نے مختلف لوگوں کے ذریعے وائس آف ہزارہ کی ٹیم کو سفارشیں کروانا شروع کردیں کہ وہ اپنی خبرڈیلیٹ کردیں۔

جبکہ دوسری جانب ایک حساس ادارے کے آفیسر کی جانب سے کالج کے پرنسپل جمیل اخترسے انکوائری رپورٹ کی بابت استفسار کیاگیا تو کالج کے پرنسپل جمیل اختر نے جھوٹ بولتے ہوئے حساس ادارے کے آفیسر کو بتایاکہ طالبہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہورہی۔ جبکہ وائس آف ہزارہ کے سی ای او کو بھی طلب کیاگیا ہے وہ بھی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہورہے۔ وائس آف ہزارہ کی ٹیم کی یہ واضح کردینا چاہتی ہے کہ کالج انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کسی کو بھی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے نہیں کہاگیا۔ جبکہ ایبٹ آباد کے شہریوں کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل وائس آف ہزارہ کی نشاندہی پر ہی ایک ڈرائیور کو گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی جو خواتین کو گاڑی میں بٹھا کر فحش حرکات کرتاتھا۔

اس حوالے سے طالبہ کے بھائیوں نے بتایاکہ انکوائری کمیٹی میں بلا کر ہمیں ذلیل اور مزید پریشان کیاجارہاہے۔ پوری کالج انتظامیہ ایک بدکردار لیکچرار کی پشت پناہی کررہی ہے۔ اس کالج میں لڑکیوں کی عزتیں لیکچرار غلام محمد جیسے بدکردار لوگوں کی وجہ سے داؤ پر لگی ہوئی ہیں اور لوگ اس کالج میں اپنی بہن، بیٹیوں کو بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب آئی ایس ایف کے ضلعی صدر عارف ستار اور دیگر نے اعلان کیا کہ اگر کالج انتظامیہ نے لیکچرار غلام محمد کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف نہ کیا تو نہ صرف شاہراہ ریشم پر احتجاج کیاجائے گابلکہ کالج انتظامیہ سمیت لیکچرار غلام محمد کیخلاف تھانہ کینٹ میں ایف آئی آر درج کروائی جائے گی۔

Facebook Comments