ہمارا فیس بک پیج

پشاور سے تعیناتیوں کا نرخ بڑھ کر سکیل 11سے سولہ تک ایک لاکھ تا پانچ لاکھ اور سترہ تا بیس پانی لاکھ تا پندرہ لاکھ تک پہنچ گیا۔

ایبٹ آباد:سرکاری محکمہ جات سیاسی مداخلت انتظامی گرفت چیک اینڈ بیلنس کا فقدان اور نااہل کرپٹ افسران کی تعیناتی تقرریوں و تعیناتیوں میں بھاری نذرانوں کم سکیل افسران لا کر انہیں کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کرنے والے اعلیٰ حکومتی حکام بالخصوص سیاسی قیادت کو خوش کرنے اور ان کے مالشی و پالسی کا کردار ادا کرنے والوں کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کی پالیسی ان اداروں بالخصوص ترقیاتی اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا یہاں مال لگاؤ مال کما کا فارمولا رائج ہے اعلیٰ سطح پر ان اداروں میں پشاور سے تعیناتیوں کا نرخ بڑھ کر سکیل 11سے سولہ تک ایک لاکھ تا پانچ لاکھ اور سترہ تا بیس پانی لاکھ تا پندرہ لاکھ تک پہنچ گیا ہے جبکہ منتھلی ادائیگی اس کے علاوہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ اور دوست و احباب نتھیاگلی کاغان ناران و دیگر علاقوں میں سیر و سیاحت اور شاپنگ کے اخراجات اس کے علاوہ کرنے ہونگے اگر یہ شرائط قبول ہوں تو 20سکیل کی آسامی پر 17سکیل کا آفیسر بھی تخت نشین ہو سکتا ہے اور اپنے نااہل آقاؤں کی خوشنودی کی صورت میں دو دو جگہوں پر ذمہ داریاں بھی ہر ایک کیلئے الگ الگ ادائیگی کے عوض کام چلا سکتا ہے۔

ترقیاتی اداروں کی حالت کو اس قدر خراب ہے کہ ٹینڈر کی منظوری سے قبل ہی اچھا مال لگانے پر 80%تک عملاً ایڈوانس اور کاغذات میں باقاعدہ ایم بی کر کے ٹینڈر منظوری سے بھی کئی روز پہلے چیک بھی دے دیا جاتا ہے اسی پر بس نہیں جب چور پکڑا جائے کمشنر ہزارہ بھی باقاعدہ انکوائری مکمل کر کے اینٹی کرپشن کو چوروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر کریں تو پھر بھی محکمہ ان چوروں کے سرپرستوں کو بچا لیا ہے کیونکہ مال اوپر تک لگا ہوتا ہے اسی پر بھی کہانی کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈر جاری ہوتے ہیں ان پر ورک آرڈر دیئے جاتے ہیں نہ محکمہ اور نہ ہی ٹھیکیدار موقع پر نشاندہی یا کام کی ضرورت محسوس کرتا ہے بلکہ دفتر میں بیٹھ کر کاغذات کا پیٹ بھرتے ہوئے فسٹ رننگ بل کے نام پر 80%تک ان پر ادائیگی کر دی جاتی ہے چند ماہ خاموشی کے بعد اس سکیم پر کوئی اعتراض لگا کر اسے مزید جاری رکھنے میں رکاوٹیں ظاہر کر کے فائل بند کر کے مذکورہ ٹھیکیدار اور محخمہ مل کر اس کی سیکورٹی وغیرہ کا اجراء کر لیتے ہیں اور چند فیصد 10تا 20فیصد رقم سیونگ میں ڈال دی جاتی ہے اسی پر بس نہیں بلکہ سرکاری رقوم کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے کیلئے سب سے بڑا اور مؤثر طریقہ سالانہ مرمتی یعنی ایم اینڈ آر کا ہے جس کا کروڑوں کا ٹینڈر ہوتا ہے ایک ادارہ نے تو گزشتہ سال ایک سرکاری جگہ پر 50لاکھ کے قریب مرمتی کے اخراجات ظاہر کئے حالانکہ یہ بلڈنگ ہی اتنی قیمت یعنی تعمیراتی رقم کی نہیں ہے۔

یہی حال سی اینڈ ڈبلیو پبلک ہیلتھ، ٹی ایم ایز ایری گیشن و دیگر کا ہے یہ ہر سال کروڑوں بلکہ مجموعی طور پر سرکاری محکمہ جات میں ااربوں روپے ہڑپ کئے جا رہے ہیں عملاً سرکاری محکمہ جات طوائف کے کوٹھے کی شکل اختیار کر چکے ہیں چند ایک گنتی کے دیانتدار و ایماندار افسران و اہلکاروں کو چھوڑ کر جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور پھر انہیں کھڈے لائن لگایا ہوا ہے اکثریت کا کردار یہ ہے کہ دفاتر میں کام کروانا ہو تو کوٹھے پر بیٹھی نائیکہ کی طرح اور پھر باہر کھڑے اس کمیشن ایجنٹ جو بازو پر چادر لگائے ہر آنے جانے پر نظر رکھتا ہے اور رقم کی ادائیگی کرنے والوں کو داد عیش کیلئے متعلقہ کمروں میں پہنچاتا ہے تا کہ باہر سب اچھا اور شرافت و تبدیلی کا نعرہ بھی چلتا رہے اور اندر مال لگاؤ مال کما کا دھندہ بھی یہ تمام برائیوں غلط کاریوں اور سرکاری خزانہ ہڑپ کرنے کا طریقے بتا کر اپنی رقوم وصول کرتے ہوئے سرکاری اداروں اور ملی خزانہ کو تباہ کرنے کیلئے سرگرم رہتے ہیں اور ساتھ یہ کمیشن ایجنٹ ہوشیار رہیو بچ کلیو اور شرافت امانت و دیانت کا راگ بھی الاپتا رہتا ہے یہ اپنی اور اپنے محکمہ کی دیانتداری کیلئے مثال دیتے ہوئے قرآن پر حلف اللہ اور رسول کے احکامات پر بھی حلف اٹھاتا رہتا ہے اور کبھی کبھی اپنی بیوی کو طلاق دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا اور اسی طرح شرافت کا لبادہ اوڑھ کر کوٹھے کے باہر بیٹھی نائیکہ اور کمیشن ایجنٹوں نے سرکاری محکموں کو تباہی و بربادری کے دہانے پر پہنچا دیاہے کہ اب سرکاری کاموں میں معیار اور مقدار کی بات کرنا ہی فضول محسوس ہوتا ہے۔

اب تو ان اداروں کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ جس طرح فنڈز میں کمی آتی ہے تو کوٹھے والے پرانی چیزوں کو بھی نیا بتا کر زیادہ نرخ لگا لیتے ہیں اسی طرح ان اداروں نے سرکاری کاموں سے کتوتی گئی گئی سیکورٹی بھی اپنے کمیشن اور عیاشیوں کے عوض ادائیگی کر دی اب دیکھا جا رہا ہے کہ سیکورٹی کا وقت ختم ہونے کے بعد آنے والے ٹھیکیداروں کو بھی چیکوں کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ان میں بعض ادارے تو کروڑوں کا فنڈ تو کیا ان کی سیکورٹیاں اور خود اپنی تنخواہیں بھی زیادہ مال بناؤ کی دوڑ میں خرچ کر چکے ہیں اور اب یہ دیوالیہ ہو کر بھی ایک طرف کبھی دوسری طرف ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اگر یہی صورتحال رہی تو یہ ملک کنگال کر دیا جائے گا اس لئے عوامی حلقوں نے اعلیٰ عدلیہ اور افواج پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ خدارا سرکاری اداروں میں بیٹھی کالی بھیڑوں ان کے سرپرستوں اور سیاسی طور پر اپنی ذات کیلئے انہیں کھلونا بنانے والے سیاستدانوں کیخلاف سخت ترین کاروائی کریں ورنہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے خدانخواستہ اسی ملک کو کوئی نقصان ہوا تو آپ سب بھی اس کے ذمہ دار ہونگے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!