مضاربہ کے نام پر کروڑوں لوٹنے والامفتی عبداللہ عباسی گرفتارنہ ہوسکا۔

ایبٹ آباد/بکوٹ:مشہور مضاربہ سکینڈل کا سرغنہ مفتی عبداللہ عباسی تاحال نیب کی گرفت سے دور یونین کونسل بیروٹ کے گاوں عباسیاں سے تعلق رکھنے والے مفتی عبداللہ نے چند سال قبل مضاربہ مشارکہ کے نام پر ہزارہ سرکل بکوٹ مری اور دیگر کہی علاقوں سے کروڑوں روپے جمع کر کے چند ماہ اسی لوٹی گئی رقم سے عوام کو منافع دیتا رہا اور اپنے کاروبار کو وسعت دی اورراہ فرار اختیار کر لی۔مفتی عبداللہ کے فرار ہونے کے بعد اس کا قریبی رشتہ دار قاہد کریم جو مفتی کے فرار ہونے کے بعد متاثرہ لوگوں کو تسلیاں دیتا رہا اور اپنے نام سے لٹنے والے لوگوں کو چیک دیئے۔

وقت پورا ہونے سے قبل نوسرباز قاہد کریم بھی بے بس اور لاچار عوام کو چونا لگا کر دوبئی فرار ہو گیا اور مفتی عبداللہ سے مل کر عوام کی لوٹی ہوی رقم سے دوبئی اور دیگر ممالک میں کاروبار کرنے لگا۔دونوں نوسرباز غریب اور بے بس عوام کا لوٹی ہوئی رقم سے عیاشیاں بھی کر رہے ہیں اب قاہد کریم وہاں متاثرین کو دھمکا رہا ہے۔دونوں نوسربازوں کے خلاف نیب میں متاثرین کی طرف سے مقدمات بھی درج ہیں۔نیب چھوٹی چھوٹی کمپنیوں اور چھوٹے ایجنٹوں کو تو خبروں کے لیے جگہ دیتی رہی اور سب سے بڑے ملزم کو کھلے عام چھوڑے رکھا متاثرین کا حکومت پاکستان اور چیئرمین نیب سے مفتی عبداللہ اور قاہد کریم کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا مطالبہ کیا۔

Facebook Comments