ہمارا فیس بک پیج

غیرمردوں کے حوالے کی جانیوالی بچی کیساتھ زیادتی۔والدین انصاف کیلئے رل گئے۔

ایبٹ آباد:گڑھی حبیب اللہ کی دو خواتین نے اپنی بھانجی کو زبرستی گاڑی میں بیٹھا کر غیرمردوں کے حوالے کردیا۔غیرمروں نے لڑکی کی عزت تار تار کردی۔پولیس فحاشی کے اڈہ چلانے والوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے متاثرہ لڑکی اپنے والد اور والدہ کے ہمراہ میڈیاکے پاس پہنچی آئی ڈی آئی جی ہزارہ قاضی جمیل سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

اس ضمن میں گڑھی حبیب اللہ کے رہائشی کائنات بی بی نے پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں گھر کا سامان لینے گھر سے باہر گئی تو مجھے میری دو خالہ الفت بی بی اور نگت بی بی نے گاڑی پر بیٹھا لیا اور اس کو کہا کہ ہم ہریپور سے واپس آتے ہیں توڑا راستہ اور گزرا تو میں دوبارہ پوچھا کہ گھر کو واپس نہیں جاتے تو میری خالہ نے کہا کہ اب واپس نہیں جاتے تم کو ہم نے چار لاکھ روپے کا فروخت کردیا اس دوران مجھے بے ہوش کر دیا اب تم ساری زندگی واپس نہیں آ سکتی گھر اور مجھے غیر مردوں کے حوالے کردیا۔وہ غیر مرد مجھ سے زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے جب میری والدہ کو علم ہوا تو میری والدہ نے گڑھی حبیب اللہ تھانے میں جاکر اطلاعی رپورٹ درج کروائی ہے۔

لڑکی کے والد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایک غریب آدمی ہوں میری سب لوگوں سے گزرش ہے کہ الفت بی بی نگت بی بی لڑکیوں سے غلط کام کررہی ہیں۔گڑھی حبیب اللہ کی پولیس بھی انکے ساتھ ملی ہوئی ہے میری کوئی بھی مدد نہیں کررہا جو مجھے انصاف لے کر دے پولیس ملزمان کی پشت پنائی کررہی ہے اورمجھے ہی بار بار تنگ کررہی ہے گھر کے نمبر پر کال کررہے ہیں پانچ سات سو روپے مزدوری کرکے کماتا ہوں جو رات کو گھر کا سامان لے کر جاتا ہوں میری بچی کی طرف سے ایف آئی آر درج کرلی گئی مگر پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کررہی ایک تو میری بچی کی عزت چلی گئی دوسرا وہ مجھے سے ایک لاکھ روپے مانگ رہی ہے یہاں کوئی ہے جو مجھے انصاف فراہم کرے مجھ یہ ہی لگ رہا ہے مجھے کوئی انصاف فراہم نہیں کرے گا۔

ڈی پی او مانسہرہ کے پاس بھی گیا ہوں وہ چھٹی پر تھے ڈی ایس پی کے پاس ساری بات نوٹس میں ہے مجھے اگرانصاف فراہم نہ ہوا تو میں مانسہرہ چوک میں جاکر اپنے آپکو آگ لگا دوں گا جس پر متاثرہ خاندان نے ڈی آئی جی ہزارہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!