ہمارا فیس بک پیج

ساٹھ لاکھ کی رقم کی بندربانٹ پرپشاورہائیکورٹ نے آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔

ایبٹ آباد:ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو 60 لاکھ پچاس ہزار کی امدادی رقوم تقسیم کرنے پر ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ نے روک کرسینئر وکلاء پر مشتمل 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،کورونا وائرس سے لاک ڈاون ہونے سے صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ہزارہ نے مانسہرہ،ایبٹ آباد، ہری پور کو 14 لاکھ فی بار کی منظوری دی اور تحصیل بار اوگی کو تین لاکھ،5 لاکھ غازی،حویلیاں اور اوگی،بٹگرام کو باقی رقم کی منظوری دی، اس حوالے سے غازی تحصیل بار کے ممبر عظیم اللہ خان نے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی جس میں صدر کابینہ کی منظوری سے بھاری رقم کا استعمال نہیں لاسکتے،منگل کے روز ہائیکورٹ ایبٹ آباد کے دو رکنی بنچ نے سماعت کی معروف قانون دان قاضی اظہر ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی،عدالت کو بتایا گیا کہ صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے 60 لاکھ پچاس ہزار کی بھاری رقم کو بغیر جنرل باڈی کی منظوری کے تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ صدر کے اختیار میں نہیں ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ صدر صرف ڈیڑھ لاکھ مالیت تک بغیر جنرل باڈی کی منظوری کے استعمال میں لاسکتے ہیں،ہائیکورٹ ایبٹ آباد کے ڈبل بینچ نے وکلاء کے دلائل پرسینئر وکلاء شاد محمد خان، خانگل خان،مفتی زاہد،عبدالخالق،ملک خالقداد،فدا محمد خان،شاہجہان خان اور شاہ فیصل ایڈووکیٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو جائزہ لے گی کہ صدر کو بغیر جنرل باڈی کی منظوری کے بھاری رقم کی تقسیم کا استحقاق ہے کہ نہیں ہے،واضح رہے کہ ایبٹ آباد بار کو 14 لاکھ کی فراہمی سے فی وکیل 14 سو کی امداد وصول ہو گی اور مانسہرہ بار میں فی وکیل 17 سو آئیں گے،کورونا وائرس اور لاک ڈاون سے متاثر ہونے کے باعث صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ریجن کی تمام بار کے لئے 60 لاکھ پچاس ہزار کا فنڈ جاری کیا تھا جس میں ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور کو 14 لاکھ فی بار دینے کی منظوری دی گئی تھی اور متاثر ہونے وکلاء میں تقسیم کا عمل بھی کیا گیا جس پر تحصیل غازی کے ممبر نے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی ہے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!