ہمارا فیس بک پیج

پشاورہائیکورٹ نے شملہ ہل انٹرچینج تعمیر کرنے کا حکم جاری کردیا۔

ایبٹ آبا د(وائس آف ہزارہ) ہائی کو رٹ ڈبل بنچ نے وفا قی حکومت کو فی الفو ر شملہ ہل انٹر چینج تعمیر کر نے کا حکم جا ری کر دیا اس کیلئے ڈبل بنچ میں ممتا ز قا نو ن دان و سابق صدر ہا ئیکو رٹ و ڈسٹرکٹ با ر قا ضی اظہر ایڈو کیٹ اور سا بق تحصیل نا ئب نا ظم شجا ع احمد نے درخواست دا ئر کی تھی اس میں ایبٹ آبا د کی لا کھو ں کی آبا د ی جس میں پی ایم اے میڈیکل کالجز، کا مسیٹس یو نیورسٹی و دیگر افوا ج پا کستان کے سنٹررز و اہم ترین تنصیبا ت ہو نے کے با وجو د جبکہ یہ شہر نہ صرف ڈویژن ہیڈ کو ا رٹر ہے بلکہ اس کی حثیت پشا ور صو با ئی دا رالخلا فہ کے بعد گر ما ئی دارلخلا فہ کا بھی اعزا ز حاصل ہے کو مو ٹر وے انٹر چینج سے محرو م رکھنا انصا ف کے تقا ضو ں کیخلا ف ہے اور اس سے لا کھوں عوام بالخصو ص ایبٹ آباد شہر تنا ول و گلیا ت کے عوام کو شدید دشوا ری کا سا منا کر نا پڑتا ہے شاہراہ۔

ریشم پر انٹر چینج نہ ہو نے کی وجہ سے مسا فرو ں بالخصو ص طلبہ و طالبا ت اور ملا زمین کو شدید ترین مشکل کا سا منا ہے اور سا تھ ہی ایو ب ہا سپٹل کمپلیکس ڈی ایچ کیو و دیگر طبی ادا روں میں ایمبو لنس کے ذریعے پہنچا نا مشکل ہے اس لئے درخوا ست گزا روں نے ایبٹ آ باد انٹر چینج کو فو ری تعمیر کی درخوا ست کی تھی اس پر ڈبل بینچ کے جسٹس شکیل الرحما ن اور جسٹس ابرا ہیم پشا ور ہائیکورٹ نے اس مقدمہ کی سما عت کی جس میں مدعیا ن کی پیروی ملک مسعو د الرحما ن اعوان ایڈو کیٹ نے کی اس مو قع پر وکلا ء و عما ئدین علا قہ کی بڑی تعدا د مو جو د تھی اس مو قع پر درخوا ست گزا روں نے با ت چیت کر تے ہوئے کہا کہ محکمہ فی الفور ہنگا می بنیا دوں پر ایبٹ آباد انٹر چینج کا کا م شروع کر ے تاکہ لاکھوں عوام کو ریلیف مل سکے اگر اس فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم معزز عدالت میں تو ہین عدالت کا مقدمہ رو ٹر کرینگے اور عوام کے حقو ق کی جنگ گلی محلے میں عوام کو شریک کرکے لڑیں گے یہ عوام کا حق ہے کہ حکومت ایبٹ آباد جیسے تا ریخی شہر میں فی الفو ر ایبٹ آباد انٹر چینج کا قیا م عمل میں لا ئے انہوں نے ایبٹ آبا د کے اراکین قو می و صو با ئی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اپنی ذمہ دا ریاں محسو س کریں اور اس منصو بے پر فی الفو ر کا م شروع کر وا ئیں۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!