ایبٹ آباد یونیورسٹی کے پرووسٹ پائندہ خان اور مجددالرحمن کی بھرتیوں کو چیلنج کردیاگیا۔

ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں لاقانونیت کا راج اپنی آخری ہچکیاں لینے لگا، سول سوسائٹی ایبٹ آبادنے AUST کے وائس چانسلر کی بے قاعدگیوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا، ایبٹ آباد یونیورسٹی گزشتہ تین سالوں سے تنازعات، اقرباء پروری، رشوت اور سفارش کا گڑھ بن چکی ہے جس کی بنیادی وجہ نااہل وی سی ہے، سول سوسائٹی ایبٹ آباد نے یونیورسٹی کو تباہی سے بچانے کا بیڑہ اپنے سر اٹھا لیا، تحصیل نائب ناظم ایبٹ آباد سردار شجاع احمد اور دیگر نے پشاور ہائیکورٹ میں ایک رٹ پٹیشن نمبر3586/19 دائر کر رکھی تھی جس میں ایبٹ آباد یونیورسٹی میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں باالخصوص پرووسٹ پائندہ خانBPS-20 اور مجدد الرحمن BPS-21 ودیگر اعلیٰ افسران کی بھرتیوں کو چیلنج کیا گیا اور ساتھ اشتہارات کی بھرمار کو بھی چیلنج کیا گیا۔

کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج جسٹس مسرت ہلالی نے اپنے استفسار میں موکلان کے وکیل جنید انور خان سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص جس کی اپنی پوسٹ ایڈورٹائز ہو چکی ہے اور اس کی مدت ملازمت میں چند دن باقی ہیں، اتنی بڑی تعداد میں یونیورسٹی میں بھرتیاں کر رہا ہے، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اپنے ریمارکس میں قانونی پوائنٹ اٹھایا کہ حکومتی پابندی کے باوجود کیا وائس چانسلر کے پاس ایسا کوئی اختیار موجود ہے کہ وہ تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر یونیورسٹی میں بھرتیاں کر سکے جس پر پٹیشنرز کے وکیل جنید انور خان نے جواب دیا کہ یونیورسٹی کو مکمل مالی وانتظامی خود مختاری حاصل نہیں ہے بلکہ قانونی طور پربھی وائس چانسلر صوبائی حکومت کے فیصلوں کو ماننے کا پابند ہے، دلائل سننے کے بعد معزز ججز نے سابقہ بھرتیوں پر یونیورسٹی کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ مزید کسی قسم کی بھرتیوں پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی۔

Facebook Comments