ہمارا فیس بک پیج

ذہنی طورپرمعذورنوسالہ بچی کوشراب کے نشے میں دھت نوجوان نے زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔

ہری پور:حوا کی ایک اور بیٹی لٹ گئی،کھلابٹ سیکٹر 4 محلہ دربند کی دماغی معذور 9 سالہ کوثر فاطمہ کو ہوسی درندے نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر بدترین جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔معصوم بچی کی حالت غیر ہونے پر ہوس پرست نوجوان حبیب الرحمان عرف کارا گھر کے باہر چھوڑ کر فرار ہو گیا،تھانہ کھلابٹ کے ایس ایچ او انسپکٹر ساجد نواز خان نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کھلابٹ ٹاونشپ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے ملزم کارا کو 30 منٹ کے اندر گرفتار کر لیا،اہلیان کھلابٹ ٹاونشپ کا ایس ایچ او انسپکٹر ساجد نواز خان کو خراج تحسین۔

محلہ دربند کے رہائشی محمد ارشد ولد غلام جیلانی نے تھانہ کھلابٹ میں رات گیئے روپوٹ درج کرواتے ہوئے کہا کہ میری 9 سالہ بیٹی کوثر فاطمہ جو کہ دماغی طور پر معذور ہے کو محلہ دربند کے رہائشی نوجوان حبیب الرحمان ولد عبدالرحمن نے 8 جولائی کو گھر کے باہر سے موٹر سائیکل پر اٹھایا اور نشے میں دھت ہو کر تربیلہ کاٹن ملز میں لے جا کر زنا کاری کی،محمد ارشد نے تھانہ کھلابٹ میں رپورٹ درج کرواتے ہوئے کہا کہ 8 جولائی کو بوقت عصر جب بچی گھر واپس آئی تو بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی اور کچھ بتا بھی نہیں رہی تھی،بچی کے جسم سے مسلسل خون جاری تھا،بچی نیم بیہوش تھی۔

بچی کی ماں جب بچی کو ہسپتال لے کر گئی تو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بھی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ 9 سالہ بچی کو ہوس کے بچاری نے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیئے روند ڈالا ہے،تاہم بچی کی ماں نے ڈر کے مارے اپنے شوہر کو اس گھناونی حرکت سے آگاہ نہ کیا اور 2 دن تک بات کو چھپائے رکھا۔لیکن زنا کاری کی یہ داستان چھپ نہ سکی اور گلی محلے میں خبر پھیل گئی۔

ننھی کوثر فاطمہ کے والد محمد ارشد کو جب باہر سے اس بات کی اطلاع ملی تو اس نے گھر جا کر اپنی بیٹی سے پوچھا تو بچی نے اپنے باپ کو ساری بات من وعن بتادی،کوثر کے والد نے فوری طور پر بچی کو ہمراہ لے کر تھانہ کھلابٹ جا پہنچا اور اطلاعی رپورٹ درج کروائی،تھانہ کھلابٹ پولیس کے فرض شناس آفیسر ایس ایچ او انسپکٹر ساجد نواز خان نے بمعہ نفری کے فوری طور پر کھلابٹ ٹاونشپ کی مکمل ناکہ بندی کرتے ہوئے انتہائی قلیل وقت میں درندہ صفت ملزم حبیب الرحمان عرف کارا ولد عبدالرحمن سکنہ محلہ دربند کو فوری طور پر ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!