ہمارا فیس بک پیج

گزشتہ تین سال سے ضلع ایبٹ آباد میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے پولیس افسران کو دوسرے ضلعوں میں تعینات کر دیا گیا۔

ایبٹ آباد پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں گزشتہ تین سال سے ضلع ایبٹ آباد میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے پولیس افسران کو دوسرے ضلعوں میں تعینات کر دیا گیا،اس ضمن میں زرائع نے بتایا کہ صوبہ خیبر پچتونخواہ کے دیگر ضلعوں کی طرح ایبٹ آباد میں پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے آئی جی کے پی کے ثناء اللہ عباسی نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فی الفور ضلع ایبٹ آباد میں گزشتہ تین سال سے لگاتار ڈیوٹی سر انجام دینے والے ایبٹ آباد پولیس کے افسران و ایس ایچ اوز کو دیگر ضلعوں میں تبادلہ کیا جائے۔

جس پر ڈی آئی جی ہزارہ اور ڈی پی او ایبٹ آباد نے ضلع ایبٹ آباد میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے پولیس ایس ایچ اوز کو دیگر زلو میں تبدیل کر دیا گیا ان میں انسپکٹر محمد جاوید کو ضلع مانسہرہ سے ضلع ایبٹ آباد،انسپکٹر فضل الرحمان کو ضلع ایبٹ آباد سے ضلع مانسہرہ،انسپکٹر نازک محمود کو انویسٹی گیشن ونگ ہریپور سے ڈسٹرکٹ مانسہرہ،انسپکٹر ماجد نسیم کو ضلع مانسہرہ سے انویسٹی گیشن ونگ ہریپور تعینات کیا گیا اسی طرح انسپکٹر عبدالغفور کو ضلع ایبٹ آباد سے ضلع اپرکوہستان انسپکٹر محمد حیات کو ضلع اپر کوہستان سے ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد،ایس آئی شہریار خان ضلع ایبٹ آباد سے ضلع مانسہرہ ایس ای اشتیاق شاہ کو ضلع ایبٹ آباد سے ضلع مانسہرہ ایس آئی عاصم امام بخاری کو ضلع مانسہرہ سے ضلع ایبٹ آباد ایس آئی تصور حسین کو ضلع مانسہرہ سے ضلع ایبٹ آباد ایس ایم منیر خان کو ضلع مانسہرہ سے ضلع ایبٹ آباد،ایس آئی عامر حسین کو ضلع مانسہرہ سے ضلع ایبٹ آباد ایس آئی الیاس فرید کو انویسٹی گیشن ونگ ہریپور سے ضلع مانسہرہ ایس آئی نذیر کو ڈسٹرکٹ ہری پور سے ڈسٹرکٹ مانسہرہ ایس آئی شکیل کو ڈسٹرک ایبٹ آباد سے انویسٹی گیشن ونگ ہریپور جبکہ ایس آئی سردار واجد کو ایس ایچ او میر پور ضلع ایبٹ آباد سے ضلع ہریپور تعینات کر دیا گیا۔

جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے اس حوالے سے ڈی آئی جی ہزارہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے آئی جی خیبرپختونخوا نے ایک احسن قدم لیا ہے جس سے پولیس کی کارکردگی میں مزید بہتر ہوگی اور ضلع ایبٹ آباد سمیت دیگر اضلاع میں کرائم میں خاتمہ ہو گا

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!