ہمارا فیس بک پیج

ٹھنڈیانی کے قیمتی جنگلات میں آئے روز آتشزدگی کی روک تھام یقینی بنائی جائے: تحریر نثار خان جدون۔

ٹھنڈیانی کے جنگل میں جہاں یہ تحریر رقم ہو رہی ہے، رمضان المبارک سے چند دن پہلے آتشزدگی نے بڑی تباہی مچائی ہے۔ سیکڑوں نوخیز پودے جل گئے ہیں، جڑی بوٹیاں جل گئی ہیں، جنگلی حیات اپنے مسکن چھوڑ کر باہر نکل آئے ہیں اور ایک مقامی زمیندار کا مویشیوں کا باڑا المعروف بہ ”ٹَکِّی دا ڈھارا“ بھی جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔
محکمہ جنگلات کے متحرک نوجوان فارسٹ گارڈ محمد حذیفہ خان اور عمیر ہاشمی اپنے بلاک انچارج گل خطاب خان کی معیت میں سبزہ و گل کے ہجوم کو چیرتے ہوئے آگ بجھا رہے ہیں۔ میں  انہیں آگ کی سخت تپش اور گرمی میں آپریشن میں مصروف دیکھ کر بے اختیار یہ دعا مانگنے لگتا ہوں  کہ اے پروردگار! ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
دھوپ کی تابش، آگ کی گرمی
وَقَنَا رَبَّنَا عَذَابَ النَار
ضلع ایبٹ آباد کے گلیز فارسٹ ڈویثرن کے جنگلات کی یہ بیٹ جہاں اس وقت آگ بجھائی جا رہی ہے سیاحوں کے لیے بہت کشش رکھتی ہے۔ یہاں  نباتات کی بے شمار انواع پائی جاتی ہیں جبکہ کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں  پھلدار پودے بھی شامل ہیں جو آج سے سولہ، سترہ سال پہلے Sowing کر کے کاشت کیے گئے تھے ۔ اسی طرح یہاں عیسائیوں کے مقدس خوش قامت درخت فر، سپروس اور پَلُدر بھی لگے ہوئے ہیں۔اور جب یہاں بنفشہ، رتن جوت، چورا، چوراتا، کالا سنبل، کوکا بوٹی، کھٹمل، ہری، گل خیر اور مامیخ جیسی ادویاتی جڑی بوٹیوں  کے ساتھ خوبصورت اور دلکش رنگوں کے پھول اگتے ہیں تو جنگل کی ساری فضا ان کی خوشبووں سے معطر ہو جاتی ہے۔
”یہاں کا ایک مقامی فارسٹ گارڈ جس کی اپنی بیٹ کے ایک کمپارٹ میں بھی حالیہ فائر سیزن کے دوران آتشزدگی کا ایک واقعہ پیش آ چکا ہے، بتا رہا ہے کہ یہاں ہر سال اسی طرح آگ لگائی جاتی ہے۔ یہاں  کے کچھ لوگ بتا رہے ہیں کہ زیادہ چارہ کی لالچ میں مال مویشیوں  والے اپنے ملکیتی رقبے میں آگ لگا دیتے ہیں جو پھیل کر جنگل میں داخل ہو جاتی ہے۔ ایک لمبے تڑنگے جوان کا کہنا ہے کہ جنگل میں آگ اس وقت لگتی ہے جب محکمہ جنگلات والے جنگل کے درخت کاٹ کر بازار میں فروخت کر چکے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ آگ کاٹے گئے درختوں کی مونڈیوں (Stumps)کوجلا کر تمام ثبوت مٹا دیتی ہے“۔تاہم میں سوچتا ہوں کہ آج اگر اس آگ کو بجھایا نہ جاتا تو یہ آگ گورنمنٹ کے Protected Forest میں داخل ہو کر ٹھنڈیانی کے تمام قدرتی حسن اور ماحول کو تباہ کر دیتی۔ سیکرٹری جنگلات جو اپنے صوبے کی سرسبزی اور بہبودی کا ہر دم خیال رکھنے والے ایک اچھے اور قابل بیورکریٹ سمجھے جاتے ہیں، کو ٹھنڈیانی کی میرا نمل بیٹ پر تعینات محکمہ جنگلات کے ان بہادر اہلکاروں کو خصوصی انعام و اکرام سے نوازنا چائیے جنہوں نے بغیر کسی خصوصی یونیفارم اور جدید آلات کے اپنی جانوں  کو خطرے میں ڈال کر آگ پر قابو پایا۔
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں درختوں کی تیزی سے کٹائی کا عمل اب 80 فیصد تک رک گیا ہے اور جنگل بہت گھنے ہو گئے ہیں جس کا تمام کریڈٹ سابق وزیر اعظم عمران خان کو جاتا ہے۔ تاہم ہزارہ ڈویثرن میں اس وقت جنگلات کا زیادہ نقصان آگ لگنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ضلع مانسہرہ میں کاغان فارسٹ ڈویثرن کے جنگلات اور سرن میں چیڑھ کے جنگل تو ہمیشہ ہی آتش زدگی کی لپیٹ میں  رہتے ہیں مگر افسوس کہ ابھی تک محکمہ جنگلات و ماحولیات کی طرف سے آگ کا سدِباب کرنے کی کوئی مو?ثر اور ہمہ گیر کوشش نہیں کی گئی ہے۔ سیکرٹری جنگلات عابد مجید سے ایک عرض یہ بھی ہے کہ وہ ہزارہ ڈویثرن میں  موجود فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے DFO’s کو شجر کاری اور جنگل بانی کے لفظی معنی بھی سمجھا دیں  کہ پودے لگانے کے بعد ان کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔
ابھی چند ماہ پہلے اس اخبار میں راقم الحروف کا ایک تحقیقی آرٹیکل”جنگلات کا تحفظ اور فروغ۔ عمران خان کا ایک بڑا کارنامہ“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ جس کے ایک اقتباس میں محکمہ جنگلات کے حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تھی کہ ”اس وقت درختوں اور سبزے کی سب سے بڑی دشمن آگ بنی ہوئی ہے۔ کوئی دن نہیں  جاتا جب کسی جنگل میں آتشزدگی کی خبر نہیں آتی گزشتہ سے پیوستہ ہفتے شنکیاری مانسہرہ کے ایک جنگل میں آگ بجھاتے ہوئے ایک مقامی جوان بری جھلس کر دم توڑ گیا۔ اس سے قبل محکمہ جنگلات کے کئی ایک اہلکار بھی آگ بجھاتے ہوئے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ آگ سے نہ صرف قیمتی نباتات اور جڑی بوٹیوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ جنگلی حیات بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں اس لیے جنگلات میں آگ پر قابو پانے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اگر آگ کی روک تھام اور انسداد کیلیے مناسب اور سخت اقدامات اٹھائے جائیں تو جنگلات میں Regeneration ہی اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ نرسری کے پودوں  کی پھر ضرورت نہیں  رہتی“۔ آخر میں حضرت انسان کے ہاتھوں فطرت اور ماحول کی تباہ کاریوں  پر نیپال کے ایک شاعر کی ایک آزاد نظم سنیے گا۔شاعر کہتا ہے کہ ”اے آدم کی اولاد! تُونے پیسہ کمانے کے لیے جنگلوں اور پہاڑوں کو تباہ کیا۔ باغوں کو ویراں کیا، سمندروں کو آلودہ اور برف زاروں کو ختم کیا۔ اگر یہ سب کچھ نہیں  رہا تو مجھے بتاؤ کہ تمہاری آنے والی نسلیں  کیا کھائیں  گی۔؟ کیا وہ روپیہ کھا کر زندہ رہ سکیں  گی۔؟ وَمَا علینا الاالبلاغ
03215724067
نثار خان جدون
موبائل نمبر: 03215724067

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!