13

حلقہ پی کے 38میں ری پولنگ کے قوی امکانات۔ تین ستمبر کو فیصلہ متوقع۔

ایبٹ آباد: حلقہ پی کے 38میں ری پولنگ کے قوی امکانات۔ تین ستمبر کو فیصلہ متوقع۔اس ضمن میں ذرائع نے صحافیوں کو بتایاکہ سال 2018ء کے عام انتخابات کے دوران حلقہ پی کے 38 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار قلندرخان لودھی کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ملک ارشد اعوان تھے۔ ملک ارشد اعوان کے مطابق انہیں جان بوجھ کر شکست دلوائی گئی جبکہ وہ الیکشن جیت چکے تھے۔ ملک ارشد اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے حلقہ پی کے اڑتیس کی ری کاؤنٹنگ کی درخواست دی۔ جوکہ عدالت عالیہ نے گزشتہ سال منظور کرلی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایک سال سے زائد وقت گزرنے کے باوجود حلقہ پی کے اڑتیس کی ری کاؤنٹنگ کا فیصلہ نہیں ہوسکاہے۔ آراو اورالیکشن کمیشن نے عدالت میں بیانات دیئے کہ ان کے پاس الیکشن کا تمام ریکارڈ بشمول فارم 45گم ہوگئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کے امیدوار قلندرلودھی جوکہ صوبائی وزیر خوراک بھی ہیں۔ موصوف نے جب بھی بحث کی تاریخ آتی ہے تو وہ بحث والے دن ایک نیا وکیل عدالت میں پیش کردیتے ہیں جوعدالت میں یہ بیان دیتاہے کہ اس کی تیاری نہیں ہے۔ لہٰذا اگلی تاریخ دی جائے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر خوراک قلندرلودھی اس وقت تک چار وکلاء تبدیل کرچکے ہیں۔جس کی وجہ سے حلقہ پی کے اڑتیس میں ری کاؤنٹنگ/ ری الیکشن کا فیصلہ رکا ہواہے۔ ذرائع کے مطابق پورے پاکستان میں الیکشن کی تمام پٹیشنوں کو نمٹا دیاگیاہے۔ لیکن ایبٹ آباد کے حلقہ پی کے 38 کا فیصلہ ابھی تک التواء کا شکارہے۔ ذرائع کے مطابق تین ستمبر کو حلقہ پی کے 38کا فیصلہ متوقع ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آر او اورالیکشن کمیشن کے بیانات کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ عدالت عالیہ حلقہ پی کے اڑتیس میں ری پولنگ کا حکم جاری کرے گی۔ کیونکہ الیکشن کا تمام ریکارڈ غائب ہے۔ مسلم لیگی امیدوار ملک ارشد اعوان کی پٹیشن کی وجہ سے صوبائی وزیر خوراک قلندرخان لودھی کیلئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور ان کو اپنی وزارت کے علاوہ قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ہاتھ سے نکلتی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب بہت سے امیدواروں نے ری پولنگ کی صورت میں الیکشن کی تیاریاں شروع کررکھی ہیں۔ جبکہ صوبائی وزیر خوراک قلندرخان لودھی نے بھی افتتاحی تقریبات کے نام پر حلقے میں جلسوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔

حلقہ پی کے اڑتیس سے پیپلزپارٹی شہید بھٹو کے امیدوار سلیم شاہ جنہوں نے تیرہ ہزار ووٹ حاصل کئے۔ موصوف گزشتہ سال انتخابی نتائج کے بعد سے منظر عام سے غائب ہیں۔ سلیم شاہ کے گروپ میں شامل بڑے بڑے جنبے ملک ارشد اعوان اور سجاد اکبر خان کے ساتھ مل گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حلقہ پی کے اڑتیس میں ری پولنگ کی صورت میں قلندرلودھی، ملک ارشداعوان اور سجاد اکبرخان میں سخت مقابلے کی توقع ہے۔ جبکہ دوسری جانب ملکی صورتحال کے پیش نظر صوبائی وزیر خوراک قلندرخان لودھی کیلئے الیکشن جیتنا اتنا آسان نہیں رہا۔ جتنا گزشتہ سال تھا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں