17

سردارشجاع آل ٹریڈرز کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

ایبٹ آباد: ہمارا کام شہر کے امن وامان کی بحالی، ٹریڈرز و شہری حقوق کے تحفظ اور تاجروں کا اتحاد ہے، اس کی خاطر ایک بار عہدہ کیا دس عہدوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں، شہر کے امن وامان کو تباہ کرکے میدان جنگ بنانے کا حصہ نہیں بن سکتا، اس لئے آل ٹریڈرز کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے مستعفی ہوتا ہوں، خود ساختہ چیئرمین میرے ٹریڈرز نہ ہونے کا فتوریٰ دے رہا ہے، میں نور الدین بازار کا متعدد بار بلا مقابلہ صدر رہا اور آج بھی میرا ووٹ سیریل نمبر15 پر درج ہے، انہیں اگر ٹریڈرز سیاست کا شوق ہے تو وہ اپنے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہو کر ون ووٹ ون اپ کے تحت صدارت کا الیکشن لڑیں، میں ان کے مخالف الیکشن کیلئے تیار ہوں، ان خیالات کا اظہار سردار شجاع احمد سابق تحصیل نائب ناظم ایبٹ آباد نے پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ 12 فروری عدالت کے حکم امتناعی سے قبل 73 مختلف یونینز نے کاغذات جمع کروائے تھے جس میں 67 بلا مقابلہ تھے اور 6 پر ایک دوسرے کے مد مقابل جبکہ مرکزی کابینہ کیلئے 3 پینلز کے کاغذات آئے تھے مگر ان میں سے بڑی اکثریت طے شدہ معاہدہ کیخلاف تھے جس کی وجہ سے ان کا بھی نوٹیفکیشن جاری نہ کیا ہے اب بھی میں اصولوں سے ہٹ کر کسی بھی یونین کو رجسٹر کرنے کے خلاف ہوں جو شہر میں امن وامان تباہ کرنے کا باعث بنے، مزید یہ کہ آل ٹریڈرزفیڈریشن آئینی و دستوری لحاظ سے سیاست،لسانیت، برادری ازم اور علاقائیت سے پاک خالصتاََ تاجروں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل حل کرنے والی ایک تنظیم ہے جس نے ماضی میں مرحوم علی اصغر خان جدون کی قیادت میں نہ صرف تاجروں کے حقوق کا دفاع کیا بلکہ شہری حقوق کیلئے بھی آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ و دیگر سرکاری محکمہ جات و اداروں اورعوام کے درمیان ایک پل کا کردارادا کیا، بارہا شہر میں کسی بھی جگہ پیدا ہونے والی کشیدگی اور امن وامان کی صورتحال کو بحال رکھنے کیلئے اپنا کردارادا کیا، اس کی واضح مثالیں محرم الحرام، ربیع الاول کے ایام و دیگر ملکی و بین الاقوامی واقعات کے دوران دیکھی جاسکتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ باہمی بھائی چارے اور محبت کو فروغ دے کر اس نے شہر کو فضا کو نفرتوں سے پاک کرنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں جس کی مثال ہر دور و موقع پر دیکھی جاسکتی ہے،مگر افسوس کہ کچھ عرصہ سے اس اہم مشن کو ترک کرکے اس عظیم کام کو پست پشت ڈال کر آل ٹریڈرز کو مکمل طور پر ذاتی مفادات اور انتظامی افسران و اعلیٰ سیاسی قیادت کو بلیک میل کرکے ذاتی مفادات کا ذریعہ بنالیا گیا، اس میں ہرکوئی بازی لے جانے لگا، شہر کے باالخصوص ٹریڈرز کے اہم ترین مسائل AC راشد کمال کے دورمیں ہٹائی گئی تجاوزات کے بعد وعدہ کیا گیا کہ اندرون شہر سے بجلی پول ہٹاکر شہر کو فور کور کے ذریعے بجلی فراہم کی جائے گی، تجاوزات سے خالی ہونے والی نالیوں کو خوبصورتی سے کور کیاجائے گا، شہر بھر میں تاجروں کی معاونت سے ایک مکمل منصوبہ بندی سے خوبصورتی پیدا کی جائے گی اس پر صحافی برادری نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے سامنے ان مسائل کو رکھا، آل ٹریڈڑز کے نمائندگان کی ملاقات کروائی گئی جس میں انہوں نے فوری طور پر تین کروڑ روپے واپڈا کو پولوں کی تبدیلی اور فور کور تار کیلئے دینے اور دیگر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا حکم جاری کیا مگر تاحال ان منصوبوں پر عمل درآمد نہ ہونا درحقیقت تاجر نمائندگان کی کھلی ناکامی ہے، گزشتہ سال ان کے د رمیان طویل ترین خلیج پیدا ہوئی دونوں گروپ متصادم تھے اور دونوں گروپوں نے خود میرے دفتر (تحصیل نائب ناظم آفس) آکر اس تصادم کو روکنے اور ان مسائل کے حل کیلئے درخواست کی جس پر دونوں گروپوں کے پچاس سے زائد افراد نے کلمبہ طیبہ پڑھ کر ایک ضابطہ اخلاق و معاہدہ طے کیا جس کے مطابق 3مارچ2019 کو دفتر تحصیل نائب ناظم میں ہمراہ جنرل سیکرٹری پریس کلب راجہ محمد ہارون ڈسٹرکٹ بار کے نمائندے امجد ستی ایڈوکیٹ کی زیر نگرانی باقاعدہ انتخاب عمل میں لایا گیا جس کا ضابطہ اخلاق اس کے ہمراہ موجود ہے کے مطابق 105 میں سے 99 ووٹ پول ہوئے جو ایک ریکارڈ ہے، بعد ازاں دونوں گروپوں کے قائدین نے باقاعدہ اعلیٰ پولیس و انتظامی افسران اور سینکڑوں تاجروں کی موجودگی میں خطاب کیا اور تاجر وں کے اتحاد و یکجہتی، ون ووٹ ون شاپ پر مکمل طور پر اترنے کا عہد کیا جس پر ان کی موقع پر ہی تقریب حلف برداری ہوئی اور اس میں طے پایا کہ تین مارچ2020ء سے قبل ون ووٹ ون شاپ کا الیکشن کروا کر نمائندگی کا حق نومنتخب کابینہ کے حوالے کر دیاجائے گا،مگر سات ماہ تک یعنی 3 مارچ2019ء سے اکتوبر تک کابینہ کے ساتوں اراکین اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اس دوران بھی انہوں نے ضابطہ اخلاق پر کوئی عمل نہ کیا اور جنرل باڈی کا اجلاس تک منعقد نہ کرسکے اور ایک بار پھر تاجروں کو تقسیم کر دیا اور طے شدہ طریقہ کار سے الگ ہو کر ایک گروپ نے صدور کی منڈی لگا دی جو تاجر مفادات کے خلاف اور شہر کا امن وامان تباہ کرنے کی بڑی سازش ہے جس سے آج شہر مکمل طور پر لسانیت، علاقائیت، برادری ازم اور دیگر برائیوں میں ڈوب چکا ہے، صدور کے بلا مقابلہ انتخاب کا یہ عالم ہے کہ خود ساختہ الیکشن کمیشن کا اپنا ہی ایک رکن خود ہاکی سٹیڈیم بازار کا بلامقابلہ صدر بن بیٹھا ہے جبکہ چیئرمین الیکشن کمیشن صاحب کے کئی عزیز کئی بازاروں کے صدور و دیگر عہدیدار منتخب ہورہے ہیں جس سے مال روڈ، گامی اڈہ کے تاجروں کا بڑا تصادم ہوا، جس میں پانچ تاجر زخمی ہوئے بڑی مشکل سے مقامی ٹریڈرز صحافیوں اور ہم نے مل کر ان کا باہمی راضی نامہ کروایا اور شہر کو بڑے تصادم سے بچایا، اس صورتحال کی روشنی میں میرے لئے اس عہدہ پر رہنا ممکن نہیں ہے کیونکہ میں اس چمن کو اجڑتے نہیں دیکھ سکتا جس کی آبیاری کیلئے اپنا خون دیا ہوا ہے، میں خود بنیادی طور پر تاجر ہوں، دو پشتوں سے میرا خاندان اس پیشہ سے وابستہ رہا اور خود ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے تجارت کا پیشہ اپنا کر جس تجارت کا درس دیا تھا جس میں تجارت ہی کے ذریعے اسلام کی تبلیغ یعنی امن وسلامتی کا درس دیا جاتا تھا اور دنیا بھر میں تمام نفرتوں و کدورتوں کا خاتمہ کرکے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر دنیا کو یکجا کیاجاتا تھا آج میں اس سے منخرف ہونے والوں کا کبھی بھی کسی طرح بھی چیف الیکشن کمشنر یعنی جج نہیں بن سکتا۔اس لئے میں آج اپنے دونوں اراکین کے ساتھ آل ٹریڈرز فیڈریشن کے الیکشن چیئرمین کے عہدہ سے استعفیٰ دیتا ہوں اور آئندہ میرا ان کی کسی بھی انتخابی سرگرمی سے کوئی تعلق یا واسطہ نہ ہوگا کیونکہ میرا انتخاب متفقہ ہوا تھا اور میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اگر ایک تاجر بھی میری مخالفت کرے گا تو میں یہ ذمہ داری قبول نہیں کروں گا، اس لئے میں کسی متنازعہ چیز کا حصہ نہیں بننا چاہتا، آخر میں اپنی تاجر برادری کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ اس نبی کریم ؐ کے امتی ہیں جنہوں نے اس تجارت کے ذریعے امن و سلامتی کا پیغام دیا، آپ آگے بڑھیں اور تاجر نمائندگی کے نام پر مسلط لٹیروں اور سازشی عناصر کا خاتمہ کرکے باہمی اتحاد و اتفاق سے اس پیشہ کا مقدس نام سربلند رکھیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں