ایبٹ آبا دمیں نیم حکیموں کے خواتین بچوں کے سامنے بے ہودہ لیکچر،دونمبرادویات کی فروخت۔ محکمہ صحت خاموش۔

ایبٹ آباد:نیم حکیم خطرہ جان شہر میں جگہ جگہ سڑک کے فٹ پاتھوں پر نیم حکیموں کے ڈھیرے سکول جانے والے بچوں کو اشارے کرکے اپنے پاس بٹیھا لیتے ہیں اور بے ہودہ باتیں بچوں کے ذہین نشین کی جاتیں ہیں جناح باغ کے قریب ایک حکیم مجمع لگا کر اونچی آواز میں نازبیا الفاظ استعمال کرتا ہے جس نہ صرف سکول کے بچوں بلکہ پاس سے گزرنے والی خواتین کا بھی سر شرم سے جھک جاتا ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی انتظامیہ اہلکار ان کے خلاف کاروائی کرئے سب کے منہ کو چپ کے تالے لگے ہوئے ہیں۔اس ضمن میں زرائع نے بتایا کہ ایبٹ آباد شہر جگہ جگہ سڑک کے فٹ پاتھ نیم حکیموں کے سپرد ہیں اور وہ سارا دن سادہ و لوح عوام کو بیوقوف بنا کر 2 نمبر ادویات پیچ کر رفو چکر ہو جاتے ہیں اور ان حکیموں کے چنگل میں زیادہ دیہاتی اور کمسن بچے آتے ہیں جن پر یہ مختلف ادویات مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں پورے شہر میں یہ کاروبار عروج پر ہے اور ان کی سب سے بڑی نوسربازی یہ ہی کہ ایک ہی دوائی میں سارا علاج کرتے ہیں مثلا سانپ کاٹ لیے تو پھر بھی وہ ہی دوا اور پیٹ میں ددر ہوتو پھر بھی وہی اگر معدہ خراب ہے تو پھر بھی وہی دوا ایک دوا میں 50 سے زیادہ بیماریوں کا علاج کرتے ہیں لیکن مجمے میں جمع سادہ لوگ ان کے بکاوئے میں آ جاتے ہیں اور مہنگے داموں ان سے دوا خرید لیتے ہیں اوران کی دی ہوئی دوائی ستعمال کرنے سے پہلے سے زیادہ بیمار ہو جاتے ہیں۔

ABBOTTABAD: Jan29 – A man busy in marketing of desi medicines, while holding snake in Jinnah Bagah. ONLINE PHOTO by Sultan Dogar

ایبٹ آباد شہر کی انتظامیہ صرف اور صرف ریڑھی تھڑوں تک محددو ہے ان پر آج تک پولیس اور نہ ہی کسی دوسرے محکمے نے ہاتھ ڈالا اور یہ لوگ دیدہ دلیری سے اپنا کام دکھانے میں مصروف ہیں حکیم کے مجمع میں ٹھرکی زیادہ ہوتے ہیں جو چھوٹے بچوں کو ورغلا کر ان کو ساتھ لیے جاتے ہیں لیکن پولیس نے آج تک ان نیم حکیموں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ان نیم حکیموں نے کئی نوجوانوں کی زندگیاں داو پر لگاکر ان سے پیسے بٹور کر ان کا مستقبل تباہ کر چکے ہی کمسن سکول کے بچے سارا دن مدایوں کا شغل دیکھتے رہتے ہیں جن پر نہ تو آج تک والدین نے توجہ دی اور نہ ہی سکول کے اساتذہ نے حکیم صبع سکول جاتے بچوں کو آواز دیکر پاس بلا کر مجمع شروع کر دیتے اور ایسے ایسے نازبیا الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہی کہ جس سے سکول بچوں سمیت خواتین کا بھی وہاں سے گزرنا مشکل اور غذاب بن گیا ہے چھوٹے چھوٹے بحوں کو سانپ دیکھا کر پھیکی اور 2 نمبر ادویات مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں اور اس بارے میں باخبر زرائع نے بتایا کہ مجمع میں زیادہ تر لوگ ان حکمیوں کے اپنے ہی ہوتے ہیں جو ایک دوائی حکیم سے خریدتے ہیں اور ساتھ کھڑے شخص کو کہتے ہیں کہ بہت اچھی دوا ہے تو مجمع میں کھڑے سارے لوگ دوائی خریدنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح نیم حکیم سادہ ولوح لوگوں سے پیسے بٹور کر مجمع ختم کردیتا ہے عوام نے ان نیم حکیموں کے خلاف ای ڈی او ہیلتھ، کمشنر ہزارہ سے فی الفور نوٹس لینے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ان حکیموں سے چھٹکارا دلاہیں۔

Facebook Comments