ایبٹ آباد سب رجسٹر آفس کے زریغے لوگوں کی قیمتی جائیدایں ہڑپ کی جانے لگیں۔

ایبٹ آباد
سب رسٹرار آفس تحصیل و ضلع ایبٹ آباد کرپشن م بھگت اور لوگوں کی جائیدار دیں ہڑپ کرنے ک ا گڑھ بن چکا ہے سب رجسٹرار اایبٹ آباد نے اعلیٰ افسران اور بااثر لوگوں کا اہلکار بن کر لوگوں کی جائیداد با اثر افراد کی منتقلی کا گڑھ اڈا بن چکا ہے شہری جائیداد کی خرید و فروخت اور جعلی رجسٹریوں کے ذریعہ بغیر کسی ثبوت کے رجسٹرایاں تصدیق کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کے مطابق سیاسی و سماجی کارکن سردار راشد نے اپنے اخباری بیا ن میں کہا ہے کہ آبادی دیہہ شاملات وغیرہ جس کی پٹواری حلقہ میونپل کمیٹی، سٹیلمنٹ اور محکمہ ہندو متروکہ املاک کا بغیر ریکارڈ کی منتقلی کا سلسلہ اب رجسٹرار اآفس میں عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے جو سب رجسٹرار بغیر کسی تحقیق و ثبوت ادارہ متعلقہ ہائے کے بغیر رجسٹرایاں تصدیق کرتا ہے جبکہ اصل مالکان کو اس بابت منتقلی کا کوئی علم نہ ہوتا ہے، جو کہ قبضہ مافیا بااثر افراد سابقہ کمشنر ہزارہ اعجاز رحیم کے ساتھ سب رجسٹرار ایبٹ آباد کی ملی بھگت سے عام شہری کے جائیداد رجسٹری کر کے منتقلی کے در پر ہیں سردار راشد نے کہا ہے کہ سب رجسٹرار ایبٹ آباد کو تما م ثبوت مہیا کرنے کے باوجود سب رجسٹرار ایبٹ آباد سابقہ کمشنر ہزارہ اعجاز رحیم جیسے آدمی کے آگے بے بس نظر آتا ہے کیونکہ سب رجسٹرار کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر اعجاز رحیم کے کام میں روڑے اٹکائے تو تمہارا تبادلہ کر دیا جائے گا جس وجہ سے سب رجسٹرار ایبٹ آباد بے بس ہے انہوں نے کہا کہ ارسابقہ کمشنر ہزارہ اعجاز رحیم کی فیملی میں سال 1994 میں جعلی نقشہ منظور کروا کر میری پراپرٹی میں سے ایک کنال کے رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب یہ خاندان اس جائیداد کو عام شہریوں پر فروخت کر کے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے اور سابقہ کمشنر ہزارہ اعجاز رحیم نے اثر رسوخ سے سب رجسٹرار آفس کو یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ اس بااثر خاندان کے خلاف نیب کو بھی درخواستیں دی گئیں ہیں لیکن یہ خاندان اتنا بااثر ہے کہ نیب کی درخواستیں بھی ان کا کچھ نہ کر سکیں اور اب سب رجسٹرار آفس ایبٹ آباد کے اہلکاران کو تمام تر حالات سے واقف کرنے کے باوجود رجسٹری کر رہے ہیں جو کہ سرا سر ظلم ہے انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ سابقہ کمشنر ہزارہ اعجاز رحیم سے ہماری جان چھڑائی جائے سب رجسٹرار ایبٹ آباد کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لے کر میری پراپرٹی کی مزید خرید و فروخت سے منع فرمایا جائے بصورت دیگر تمام تر حالات کی ذمہ داری موجودہ کمشنر ہزارہ ظہیر السلام پر عائد ہو گی۔
Facebook Comments