ہمارا فیس بک پیج

محکمہ تعلیم میں نان پروفیشنل کی تعیناتیاں روکنے کیلئے دائرپٹیشن پشاورہائیکورٹ نے منظور کرلی۔

ایبٹ آباد:خیبر پختون خوا میں نان پروفیشنل کی محکمہ تعلیم میں تعیناتیوں کو روکنے کے لئے پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ میں دائر رٹ سماعت کے لئے منظور،عدالت نے فریقین کو 24نومبرکوطلب کر لیا،سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری خیبر پختون خواہ، ریجنل منیجر نیشنل ٹیسٹنگ سروسز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایبٹ آباد مردانہ کو لیگل نوٹسز جاری کر دئیے گے،محکمہ تعلیم میں بھی نئی بھرتیوں پر تعیناتیوں کا عمل کھٹائی میں پڑنے کا امکان پیدا ہوگیا۔

خیبر پختون خوا حکومت نے 2018میں اسمبلی میں قانون سازی کے زریعے محکمہ تعلیم میں پروفیشنل ڈگری ہولڈرز کی شرط ختم کرکے این ٹی ایس کے زریعے اوپن بھرتی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس سے صوبہ بھر میں ہزاروں پی ٹی سی،سی ٹی،اے ڈی ای،جونیئر ڈپلومہ فزیکل ایجوکیشن،ڈرائنگ ماسٹر ڈپلومہ،بی ایڈ،ایم ایڈ،ایم اے ایجوکیشن کو نوکری کے حصول میں مسائل پیدا ہوئے ہیں اور اپنے ہی محکمہ میں بھرتی کے لئے خوار ہوتے رہے۔

اس حوالہ سے رٹ پٹیشنر زیشان ذاکر عباسی نے میڈیا کو بتایا کہ پروفیشنل ڈگری کے ڈگری ہولڈرز کو حق دلانے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے،نان پروفیشنل عمر بچانے کے لئے محکمہ تعلیم میں جارہے ہیں اور حکومت ان کی دوبارہ ٹرینگ پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے،جو صوبے کے غریب عوام کے جمع ٹیکسز پر شب خون مارنے کے مترادف ہے،ان ڈیکشن پروگرام کے نام پر بھی حکومت کے کروڑوں ضائع ہو رہے ہیں۔کیس کی پیروی معروف قانون دان حامد فراز عباسی کر رہے ہیں۔عدالت نے رٹ کو سماعت کے لئے منظور کر کے این ٹی ایس حکام اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مردانہ کو 24 نومبر کو طلب کیا ہے۔

شیئر کریں

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on print
Print

اہم خبریں

error: Content is protected !!