خانپورڈیم میں تین دوست ڈوب گئے۔

ہری پور: خان پورڈیم کی نہر میں نہاتے ہوئے تین دوست ڈوب گے دو کو بچا لیا گیا ایک جان بحق دفعہ144نافذ ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ عمل درآمد کروانے میں مکمل طور ناکام نوجوان بڑی تعداد میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے نہانے ڈیم اور نہر سمیت سپیل وے میں اتر جاتے ہیں جس کے باعث ڈو ب کرجاں بحق ہو جاتے ہیں پولیس نے اطلاع پاکر لاش کو اپنے قبضے میں لے کر خان پور ہسپتال منتقل کر دیا بعد ازاں لاش تدفین کے لیے ورثاء کے حوالہ کر دیا گیا۔

زرائع کے مطابق گزشتہ روز نواحی علاقہ بھیرہ کے رہائشی تین دوست موٹر سائیکل پر خان پور ڈیم کی نہر پر نہانے گے جہاں تینوں دوست نہاتے ہوئے گہرے پانی میں چلے گے اور پانی میں ڈوب گے جن کو مقامی افرا دنے ڈوبتا دیکھ کر پچانے کی کوشش کی تینوں میں سے دو دوستوں کو زندہ بچا لیا گیا مگر ایک دوست شہزاد ولد جہانگیر جانبر نہ ہو سکا اور پانی میں ڈوب کرجاں بحق ہو گیا جس کی لاش کو نکال لیا گیا پولیس نے اطلا ع پاکر لاش کو اپنی تحویل میں لے کر خان پور ہسپتال منتقل کیاجہاں شناخت اور ضروری قانونی کاروائی کے بعد لاش کو تدفین کے لیے ورثاء کے حوالہ کر دیا گیا۔

جاں بحق ہونے والا نوجوان پولیس ملازم جہانگیر کا بیٹا تھا یاد رہے کہ خان پور ڈیم نہر سپیل وے پر نہانے پر پابندی عائد ہے ضلعی انتظامیہ نے دفعہ144نافذ کر رکھا ہے مگر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے جس سے وجہ سے آئے روز نوجوانوں کی اموات واقع ہو رہی ہیں پنجاب سمیت ہزارہ بھر سے نوجوان موٹر سائیکلوں میں بڑی تعداد میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے نہانے آجاتے ہیں پارکنگ کے نام پر غنڈہ ٹیکس بھی لے لیا جاتا ہے مگر جان بچانے ریسکیو کے لیے کوئی سامان موجود نہیں ہے شہریوں نے اعلی حکام سے دفعہ144پر فوری سخت عمل درآمد کویقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے

Facebook Comments